شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے جمعرات کو کہا کہ باقی ممالک کی طرح وہ بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہہ فریقی دفاعی معاہدے کا غور سے جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی اس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
اسلام آباد میں ایک ہوٹل میں درجن سے زائد صحافیوں سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا ’ہم نے بھی باقی ممالک کے طرح مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو دیکھا ہے۔
’یہ تینوں خطے کے اہم ممالک ہیں۔ ہم اپنی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن فی الحال اس میں شمولیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔‘
الشیبانی بدھ کی شام اسلام آباد پہنچے تھے جس کے بعد آج انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
گذشتہ 19 برسوں میں کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
ان ملاقاتوں کے نتیجے میں ان کا کہنا تھا بہت جلد دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے سفیروں کی تعیناتی، اسلام آباد اور دمشق کے درمیان براہ راست پروازوں اور مشترکے وزارتی کمیشن کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے جلد دمشق میں تجارتی فورم کے اجلاس کے انقعاد کے بارے میں بھی بتایا، تاہم کسی دفاعی شعبے میں تعاون کا ذکر نہیں کیا۔
اپنے دورہ اسلام آباد کو تاریخی قرار دیتے ہوئے الشیبانی نے کہا ’ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی نہیں بلکہ توسیع کے لیے آئے ہیں۔
’ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گرجوشی پر مبنی اور اورگینک تھے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس دورے کے دوران ایران اور شام کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے پاکستان کی ثالثی پر غور کیا گیا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔
تاہم ان کا کہنا تھا ’ایران نے شامی عوام کے ساتھ گذشتہ 14 برسوں میں جو کیا وہ اگر اسے بند کرتا ہے تو بات چیت کا امکان ہوسکتا ہے۔
’ابھی ہم تہران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے خواہاں نہیں۔ اگر ایران اپنی پالیسی تبدیل کرتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘
ایران دورے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ’اگر اس سے شام کو فائدہ ہوگا تو ضرور جائیں گے۔‘
اسعد الشیبانی نے کہا ان کا آج کا دن انتہائی کامیاب رہا اور وہ اسلام آباد آ کر خوش ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور شام کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی تجدید کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس موقعے پر علاقائی صورت حال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان شام کی جانب سے کسی ثالثی کے امکان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کی حمایت اور افغانستان سے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
’دونوں ممالک کے دینی، جغرافیائی اور قبائلی تعلقات ہیں، لہٰذا دونوں کو چاہیے کہ مل کر اس مسئلے کا کوئی پرامن حل نکالیں۔‘
39 سالہ اسعد الشیبانی دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی نئی شامی انتظامیہ کا حصہ بنے تھے۔
وہ 1987 میں شام کے صوبہ الحسکہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دمشق یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں گریجوایشن کیا۔
تاہم صحافیوں کے ساتھ وہ عربی زبان میں مترجم کی مدد سے گفتگو کرتے رہے۔
انہوں نے اسرائیل پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ شام میں آٹھ دسمبر، 2024 میں تبدیلی کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں۔
’اسرائیل 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس کے عزائم توسیع پسندہ اور غیرمنصفانہ ہیں۔‘
تاہم انہوں نے بتایا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم شامی وزیر نے ترکی کے کردار کی کافی تعریف کی اور کہا ترکی شامی عوام کے ساتھ 14 سال سے کھڑا ہے۔
