سعودی عرب نے پیر کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ مملکت ’امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور 60 دن کے اندر تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے‘ کا خیرمقدم کرتی ہے تاکہ ایک مستقل معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک پائیدار امن معاہدہ وہ ہو گا ’جو علاقائی ریاستوں کے سکیورٹی مفادات کو مدنظر رکھے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہے۔‘
امریکہ اور ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم کرنے اور اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔
تاہم تہران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسئلے پر انہوں نے بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
واشنگٹن اور اسلام آباد نے کہا ہے کہ معاہدے پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
کئی ماہ سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جمعے کو معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، دوبارہ کھول دی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اتوار کو اپنی 80ویں سالگرہ کے موقعے پر سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں ٹرمپ نے لکھا ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’دنیا کے جہازوں، اپنے انجن سٹارٹ کرو۔ تیل کو بہنے دو!‘
اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا ’فوری خاتمہ‘ ہو گیا ہے اور وہ دو ماہ کے اندر ایک ’حتمی معاہدے‘ تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔
ادھر ایک سفارت کار نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل امریکہ اور ایران اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ ملاقاتیں کریں گے۔
سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا ’اس ہفتے دوحہ میں دونوں فریقوں کے ساتھ الگ الگ تیاری پر مبنی ملاقاتیں ہوں گی، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ قطری ثالث ’17 گھنٹے کی مسلسل اور انتہائی اہم مذاکراتی نشستوں‘ کے بعد تہران سے روانہ ہوئے۔
