ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایران کے ساتھ عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو عبوری معاہدے کے تحت بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے منجمد اثاثے بھی بحال کرنا ہوں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت رک گئی ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہے۔
تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے امکانات کم ہونے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ دیکھا گیا۔
منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 35 سینٹ یا 0.39 فیصد اضافے کے بعد 91.22 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 81 سینٹ یا 0.96 فیصد اضافے کے بعد 85.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھ رہی ہیں۔ دوران کاروبار برینٹ کی قیمت 30 جولائی کے بعد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے اور آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود
امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال نہ ہونے کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور حملوں کے باعث آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اب بھی انتہائی کم ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے آبنائے ہرمز کے اندر سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب فجیرہ کے مقام پر جہاز سے جہاز میں منتقلی کے ذریعے تیل کی ترسیل کے لیے کارگو بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایس ای بی بینک کے توانائی امور کے تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ کے مطابق ایران جب مناسب سمجھے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا جلد یہ صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
ایران کا فوجی مؤقف مزید سخت کرنے کا اعلان
ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے بتایا کہ مستقل جنگ بندی کے لیے کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے بعد ایران مکمل جارحانہ فوجی پوزیشن اختیار کرے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کو خارج از امکان قرار دیا ہے، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ڈی بی ایس بینک کے سربراہ برائے توانائی تحقیق سوورو سرکار کے مطابق کسی معاہدے کی عدم موجودگی رواں سال کی چوتھی سہ ماہی اور 2027 میں تیل کی قیمتوں کے متعلق توقعات کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ بھی مذاکرات کیے ہیں اور تہران کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
تاہم ان مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو بمباری کی دھمکی بھی دی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے ذریعے عالمی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔
اس لیے آبنائے میں مسلسل رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
