ایک نئی تحقیق کے مطابق فضائی عملے، یعنی فلائٹ اٹینڈنٹس اور پائلٹس، میں تابکاری کی وجہ سے ہونے والے کینسرکے باعث موت کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، حتیٰ کہ جوہری ٹیکنالوجی کے ماہرین سے بھی زیادہ۔
یہ تحقیق 500 سے زیادہ مختلف پیشوں کے افراد کے اعداد و شمار کے جائزے پر مبنی ہے۔
طبی جریدے جے اے ایم اے انٹرنل میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق امریکہ میں کام کرنے والے دیگر تمام شعبوں کے مقابلے میں فضائی عملے کو سالانہ بنیاد پر کینسر کا سبب بننے والی تابکاری کی سب سے زیادہ مقدار کا سامنا ہوتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ زیادہ بلندی پر پرواز کے دوران انہیں خلا سے آنے والی تابکاری کا زیادہ سامنا ہوتا ہے۔
ہارورڈ میڈیکل سکول کے محققین نے فضائی عملے کو تابکاری سے محفوظ رکھنے کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے قبل ہونے والی تحقیقات سے بھی عندیہ ملا تھا کہ فضائی شعبے سے وابستہ افراد میں عام لوگوں کے مقابلے میں بعض اقسام کے کینسر کی تشخیص کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
تاہم اس بات پر محدود تحقیق ہوئی تھی کہ آیا اس کے نتیجے میں اموات کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہیں یا نہیں۔
اس تحقیق میں سائنس دانوں نے امریکہ میں 2020 سے 2024 تک جاری کیے گئے ڈیتھ سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا، جنھیں حال ہی میں مرنے والے افراد کے پیشوں سے منسلک کیا گیا تھا۔
مجموعی طور پر محققین نے 503 پیشوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ متوفیان کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جن میں تقریباً 14 ہزار پائلٹس اور سات ہزار فلائٹ اٹینڈنٹس شامل تھے۔
تحقیق میں عمر، جنس، نسل، نسلی شناخت، تعلیمی قابلیت اور ازدواجی حیثیت سمیت ان عوامل کو بھی مدنظر رکھا گیا جو پیشے کے علاوہ اموات کی شرح کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں تابکاری سے متعلق جن کینسرز کا جائزہ لیا گیا، ان میں چھاتی کا کینسر، اعصابی نظام کے کینسر، لیوکیمیا، لمفوما، تھائرائڈ کینسر، پروسٹیٹ کینسر اور جلد کا کینسر شامل تھے۔
سائنس دانوں نے پایا کہ پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس میں چھاتی، مرکزی اعصابی نظام اور پروسٹیٹ کے کینسر کے ساتھ ساتھ میلانوما سے ہونے والی اموات کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
تحقیق کے مطابق پائلٹس میں لیوکیمیا سے ہونے والی اموات کی شرح بھی زیادہ تھی۔
محققین کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹس اور پائلٹس کی تقریباً سات فیصد اموات تابکاری سے متعلق کینسر کے باعث ہوئیں، جو جوہری ٹیکنالوجی کے ماہرین سمیت دیگر تمام پیشوں کے مقابلے میں زیادہ شرح ہے، حالانکہ جوہری شعبے کے کارکنوں کو معمول کے مطابق تابکاری کا سامنا ہوتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ میں فضائی عملے کو اوسطاً ہر سال تین سے چھ ملی سیورٹ کائناتی تابکاری کا سامنا ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ مقدار ایک عام فضائی مسافر کو سالانہ ملنے والی تقریباً 0.4 ملی سیورٹ تابکاری سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ مقدار اس مسافر کے لیے ہے جو ایک سال میں ملک کے اندر 10 مرتبہ دو طرفہ پروازیں کرے۔
محققین نے تحقیق میں ایک بڑی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹس میں پیشے کی غلط نشاندہی کا امکان موجود ہے اور ہر فرد کو درپیش تابکاری کی حقیقی مقدار سے متعلق معلومات بھی دستیاب نہیں تھیں۔
تاہم، ان کا کہنا ہے کہ نتائج پرواز کے دوران کائناتی تابکاری سے مجموعی طور پر ہونے والے ایکسپوژر اور تابکاری سے متعلق مختلف کینسرز کے درمیان تعلق کی تصدیق کرتے ہیں۔
تحقیق میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ’503 پیشوں میں فلائٹ اٹینڈنٹس اور پائلٹس میں تابکاری سے متعلق کینسر کے باعث اموات کا تناسب بالترتیب سب سے زیادہ اور دوسرے نمبر پر تھا۔
’یہ رجحان غیر تابکاری سے متعلق کینسرز یا زمین پر کام کرنے والے ایوی ایشن ملازمین میں نہیں دیکھا گیا۔‘
