کامن ویلتھ گیمز میں فاطمہ زہرا پاکستان کے لیے باکسنگ میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے فائٹ کو ’آخری فائٹ‘ سمجھ کر کھیلا۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ فاطمہ زہرا نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز میں وہ اپنے آخری مقابلے کے لیے انجری کے ساتھ رنگ میں اتریں۔
وہ بتاتی ہیں کہ میں نے ’اس فائٹ کو اپنی آخری فائٹ سمجھ کے کھیلا تھا۔‘
پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کے خلاف کوارٹر فائنل میں پوائنٹس پر متفقہ فتح کے ساتھ 60 کلوگرام کے سیمی فائنل میں باآسانی پہنچنے کے بعد دولت مشترکہ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بنیں۔
گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز میں 22 سالہ باکسر فاطمہ زہرا نے منگل کو کوارٹر فائنل میں ولسن کو 0-5 سے پچھاڑا جس میں پانچوں ججوں نے مقابلے کا فیصلہ ان کے حق میں دیا تاکہ مقابلے کے فارمیٹ کے تحت ان کا کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی ہو سکے، جہاں سیمی فائنل ہارنے والوں کو بھی کانسی کا تمغہ ملتا ہے۔ انہیں جمعے کو 60 کلو گرام کیٹگری کے باکسنگ سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری ال مہدیہ کے خلاف شکست ہوئی۔
وطن واپسی کے بعد انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’جب میری نیوزی لینڈ کے ساتھ فائٹ تھی تو مجھے انجری بھی تھی، میرا ہاتھ خراب تھا۔ اس وجہ سے میں کافی زیادہ ڈسٹرب بھی تھی۔
’میں نے ریکوری کے لیے جو ہو سکتا تھا، وہ سب کیا۔ اس فائٹ کا میرے اوپر بہت زیادہ پریشر تھا کیونکہ یہ میڈل فائٹ تھی اور اس پر میرا باقی آگے کا کیریئر کا انحصار تھا۔‘
فاطمہ اپنی جیت کا لمحہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں ’جب میں نیوزی لینڈ سے فائٹ جیتی اور میرا ہاتھ اوپر ہوا اور مجھے کنفرم ہوا کہ میں پاکستان کے لیے برونز میڈل جیت گئی ہوں، تو وہ میرے لیے بہت زیادہ ایموشنل اور فخر کا لمحہ تھا۔
’اس وقت میں رونے بھی لگی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اس سے پہلے کسی بھی گیمز میں پاکستان کا کوئی میڈل نہیں ہے۔ اور یہ ایک ہسٹری کریئیٹ ہوئی تھی۔‘
فاطمہ چھ مرتبہ کی عالمی چیمپیئن اور اولمپک کانسی کا تمغہ جیتنے والی انڈین باکسر میری کوم کی زندگی سے متاثر ہو کر باکسنگ رنگ میں اتری تھیں۔
ان کی زندگی پر بننے والی فلم دیکھنے کے بعد فاطمہ نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بھی پاکستان کے لیے کوئی تاریخی کامیابی حاصل کریں گی۔
فاطمہ نے 16 سال کی عمر میں باکسنگ کا آغاز کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’میں جانتی تھی کہ پاکستان کی لڑکیاں میڈل نہیں لے سکتیں، یہ ڈر ختم کرنا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرگودھا یونیورسٹی میں تیسرے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ زہرا نے ٹریننگ کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے متعلق کہا کہ شروعات میں لوگوں میں ’اویئرنیس کی کمی، بیڈ کمنٹس اور رشتہ داروں کے بیڈ کمنٹس کی وجہ سے بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں۔
’اس وجہ سے میری فیملی بہت زیادہ ڈسٹرب ہو گئی تھی اور انہوں نے ایک سال، چھے مہینے مجھے باکسنگ نہیں کرنے دی۔‘
فاطمہ کے والد ثاقب رضا ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا میں کلاس فور کے ملازم ہیں۔ وہ خود بھی ماضی میں مارشل آرٹس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ’میں فاطمہ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں۔ ہمیں اس وقت مسئلہ ہوا جب فاطمہ کو لوگوں نے ورزش کرتے دیکھا۔
’لوگوں نے کہا یہ کیسے کپڑے پہن کر کھیلتی اور ورزش کرتی ہے۔ آخرکار ایسی باتوں پر دھیان نہیں دیا کیونکہ منزل جو بڑی ہے۔‘
ثاقب رضا کا کہنا ہے انہوں نے خود اپنی بیٹیوں کو ورزش کروانا شروع کی اور کم سہولیات میں بھی محنت کروائی۔
فاطمہ کے کوچ راحیل عدنان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب فاطمہ نے ان کے پاس ٹریننگ شروع کی تو ’میں نے دیکھا کہ اس میں ٹیلنٹ ہے اور محنتی ہے تو میں نے اس پر محنت شروع کی۔‘
راحیل کہتے ہیں کہ کم سہولیات کے باوجود ٹریننگ دی اور محنت کی۔ ’بڑے میڈل کے لیے بڑی سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے کلب اور سرگودھا کی باکسنگ کو پروموٹ کریں، ہمیں آلات دیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارے سرگودھا کے کلب میں چھ سے سات نیشنل چیمپیئن ہیں، جس میں سے پانچ انٹرنیشنل ہیں۔ ان میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں شامل ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اگر فاطمہ اور اسی طرح دوسری لڑکیاں، جیسے عائشہ ممتاز، جس نے ایشیا میں برونز میڈل حاصل کیا ہے اور ورلڈ میں سلور میڈل حاصل کیا ہے، ان کی طرح یہاں بہت ٹیلنٹ ہے جو ہمارے پاس ٹریننگ کر رہے ہیں۔‘
راحیل کے مطابق ’اگر ہمیں جدید سہولیات مل جائیں تو ہم آپ کو اولمپکس میں بھی گولڈ دے سکتے ہیں۔‘
