جیسے جیسے ہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے دور کے ابتدائی مراحل میں داخل ہو رہے ہیں، یہ سمجھنا اور فروغ دینا ضروری ہے کہ کون سی مہارتیں مستقبل میں پیداواریت، جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد بنیں گی۔
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ صرف معمول کے کاموں کو خودکار نہیں بنا رہی بلکہ مزدور مارکیٹس کی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے، صنعتوں کے ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہے اور پیشہ ورانہ کامیابی کے معیار کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی ’فیوچر آف جابز رپورٹ‘ سمیت معروف عالمی جائزوں کے مطابق، ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا سے جڑی صلاحیتوں کی طلب آنے والے برسوں میں تیزی سے بڑھے گی اور یہ روایتی مہارتوں پر سبقت لے جائیں گی۔
یہ تبدیلی نوجوان نسل کے لیے بیک وقت مواقع اور چیلنجز دونوں لے کر آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ ضرورت بھی پیدا ہو گئی ہے کہ تعلیم، کیریئر کے انتخاب اور ذاتی ترقی کے حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی کی جائے۔
اس نئے منظرنامے میں کامیابی کے لیے دو چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں: تکنیکی مہارت اور چند اہم انسانی خصوصیات۔
تکنیکی میدان میں بنیادی مہارتوں میں مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ کے اصول، جدید پروگرامنگ، ڈیٹا کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت، انجینئرنگ اور تجزیاتی مہارتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین اور کلاؤڈ آرکیٹیکٹس جیسے شعبوں میں بھی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ ایسی ٹیکنالوجیز اور آلات پر عبور حاصل کرنا جو ذہین نظام بنانے، بہتر کرنے اور ان کی نگرانی میں مدد دیتے ہیں، انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح روبوٹکس بھی ایک اہم شعبہ ہے۔
توقع ہے کہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت یا مشین لرننگ میں خصوصی تعلیم، ڈیٹا سائنس، شماریات، سائبر سکیورٹی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے مضامین کی طلب مسلسل بلند رہے گی۔ یہ شعبے اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ معاشرے کو براہِ راست فائدہ پہنچاتے ہیں، مثلاً مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیماریوں کی تشخیص۔
ان شعبوں میں مہارت حاصل کرنا جو مکمل طور پر خودکار نظاموں کے ذریعے تبدیل ہونے کے امکانات کم رکھتے ہیں، ایک اور اہم راستہ ہے۔ ان میں طب، نرسنگ، قانون، انجینئرنگ اور کلینیکل نفسیات شامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پیشوں میں باریک بینی سے فیصلہ سازی، اخلاقی غور و فکر اور اعتماد کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو وہ مہارتیں ہیں جو مصنوعی ذہانت کی افادیت کو مزید بڑھاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آجر اب تیزی سے ان خصوصیات کو ترجیح دے رہے ہیں جن میں بدلتی صورت حال سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، جذباتی ذہانت، ہمدردی، مؤثر ابلاغ اور اخلاقی بنیادوں پر فیصلہ سازی شامل ہیں۔
مختلف رپورٹس نے واضح کیا ہے کہ یہ مہارتیں ثانوی یا اضافی نہیں بلکہ بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ مستقبل میں بہترین کیریئر کے مواقع شاید مصنوعی ذہانت کی جگہ لینے کے بجائے اس کی کارکردگی کو بڑھانے سے متعلق ہوں گے۔ اسی لیے مشین لرننگ کے ماہرین، اے آئی اخلاقیات کے افسران، پروڈکٹ مینیجرز، ڈیٹا حکمتِ عملی کے ماہرین اور ہیلتھ کیئر انفارمیٹکس کے شعبے سے وابستہ افراد کی مانگ بہت زیادہ ہوگی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ کئی ممالک مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو اپنے قومی نصاب اور افرادی قوت کی ترقی کے پروگراموں میں شامل کر رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اے آئی کے دور میں انسانی سرمایہ ہی مسابقتی برتری کی اصل بنیاد ہے۔
مثال کے طور پر سنگاپور کا ’سمارٹ نیشن‘ منصوبہ پورے تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرتا ہے۔ اس میں ذاتی نوعیت کی تعلیم، اساتذہ کی معاونت اور اخلاقی آگاہی پر زور دیا جاتا ہے تاکہ 2030 تک سنگاپور کو اس میدان میں عالمی رہنما بنایا جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح فن لینڈ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق مفت آن لائن کورسز متعارف کروانے اور تعلیمی ماحول میں اے آئی کے منصفانہ استعمال پر کثیرالجہتی تحقیق کا آغاز کر کے اپنے مشہور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔
مزید برآں، اسٹونیا کا پرجوش ’اے آئی لیپ‘ پروگرام، جو اوپن اے آئی سمیت مختلف اداروں کے تعاون سے شروع کیا گیا، ثانوی درجے کے طلبہ اور اساتذہ کو جدید اے آئی ٹولز تک ملک گیر رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت انہیں مؤثر استعمال کی تربیت دی جاتی ہے جبکہ تعلیمی معیار اور مقاصد کو بھی مقدم رکھا جاتا ہے۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک بھی تیل پر انحصار کم کرنے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی معاشی تنوع کی پالیسیوں پر تیزی سے عمل کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے ’سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی‘ کے ذریعے سرکاری سکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا جامع قومی نصاب متعارف کروایا ہے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کے لیے شراکت داریاں بھی قائم کی گئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے 2017 میں دنیا کے پہلے وزیر برائے مصنوعی ذہانت کا تقرر کیا تھا اور اب وہ اپنی ’نیشنل اے آئی سٹریٹیجی 2031‘ پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس منصوبے کے تحت کنڈرگارٹن سے لے کر بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔ محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ملک بھر میں مہارتوں کے فروغ کے متعدد منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت ایک ٹیکنالوجی سے واقف اور باصلاحیت معاشرہ تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے۔
قطر کا ’نیشنل سکلنگ پروگرام‘ ہزاروں سکول طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک میں بھی، گوگل کی خواندگی سے متعلق سرمایہ کاری سمیت، مختلف منصوبے مہارتوں کے فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس قسم کی سرمایہ کاری نہ صرف تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے بلکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کے مسئلے کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہے کیونکہ یہ تعلیم کو نئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ڈھالتی ہے۔
یہ اقدامات ایک اور بڑی حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں: مصنوعی ذہانت کی تعلیم میں حکومتوں اور اداروں کی بروقت سرمایہ کاری جدت طرازی کی صلاحیت اور معاشرتی ترقی دونوں میں اہم فوائد پیدا کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مضامین کو مربوط کرنے، اخلاقی اصولوں کو فروغ دینے اور زندگی بھر سیکھنے کی ثقافت اپنانے کے ذریعے یہ ممالک اپنے نوجوانوں کو اس نئے دور کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں، نہ کہ اس کے سامنے بے بس ہونے کے لیے۔
مختصراً، جیسے جیسے ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں مزید آگے بڑھ رہے ہیں، سنگاپور، اسٹونیا، فن لینڈ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک مستقبل بین سرمایہ کاری کی مثالیں پیش کر رہے ہیں جو ہدفی تربیت اور تعلیمی اصلاحات کے ذریعے نئی نسل کو بااختیار بنا رہی ہیں۔
نوجوان افراد اور اقوام دونوں کے لیے تیاری کا مطلب ہے دور اندیشی، نصاب میں اصلاحات، آسانی سے دستیاب تربیتی پلیٹ فارم، سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک اور مصنوعی ذہانت کو مثبت انداز میں اپنانے والی ثقافت کو فروغ دینا۔
ڈاکٹر مجید رفیع زادہ ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ایرانی نژاد امریکی سیاسیات دان ہیں۔ ایکس: @Dr\_Rafizadeh
یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔

