پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو اچانک لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا جہاں ان کی مسافروں سے امیگریشن پر لگنے والے وقت پر گفتگو ہوئی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے اس دورے کی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کاؤنٹرز کا معائنہ کیا اور عملے سے امیگریشن کے عمل کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر محسن نقوی کی وہاں موجود مسافروں سے بھی گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے امیگریشن میں لگنے والے وقت کے بارے میں دریافت کیا۔
بیان کے مطابق مسافروں نے امیگریشن کے انتظامات میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو بتایا کہ امیگریشن کے عمل میں اس وقت تقریباً 30 منٹ لگ رہے ہیں۔
اس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے مسافروں کو یقین دلایا کہ امیگریشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے حکم دیا کہ امیگریشن کے تمام کاؤنٹرز فعال رکھے جائیں تاکہ عمل تیز ہو سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی دوران ایک مسافر نے شکایت کی کہ ایک ایجنٹ نے ان سے رقم لی ہے۔
محسن نقوی نے شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ معاملہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے حوالے کیا جائے اور ایجنٹ کو گرفتار کیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی صورت میں نامکمل سفری دستاویزات رکھنے والے شخص کو سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مکمل سفری دستاویزات رکھنے والے کسی بھی مسافر کو سفر سے نہیں روکا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے امیگریشن کے عمل کو آسان بنا دیا ہے، جبکہ جعلی دستاویزات پر سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رواں سال فروری میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا تھا کہ سال 2025 میں تقریباً 73 ہزار افراد کو بیرون ملک پرواز کرنے سے قبل آف لوڈ کیا گیا جن میں تقریباً 45 ہزار افراد کو تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر جبکہ 28 ہزار کے قریب افراد کو دیگر وجوہات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔
