عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز معاہدہ حتمی مراحل میں: ایران

متحدہ عرب امارات نے ہفتے کو کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سرکاری ملکیتی ادارے ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی مؤثر ناکہ بندی کر رکھی ہے اور گزرنے والے جہازوں سے اس کے استعمال کی فیس وصول کرنا چاہتا ہے، جس کی امریکہ سخت مخالفت کر رہا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات کے حوالے سے قریبی ملک عمان کے ساتھ بھی مذاکرات کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ایرانی جانب سے ایک جارحانہ حملہ‘ قرار دیا، جس میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں عمان کے قریب ایک بحری جہاز کو ایک چیز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا دونوں بیانات میں ایک ہی بحری جہاز کا ذکر کیا گیا یا نہیں۔

جمعے کو ابوظبی نیشنل آئل کمپنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں اس کے 15 بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں صرف رواں ہفتے تین جہاز شامل ہیں۔

فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے خطے میں تیزی سے علاقائی جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات ’حتمی مراحل کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی علامت نہیں۔‘

انہوں نے کہا ’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا دیگر شرائط اور امریکہ کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کے ازالے سے مشروط ہے۔‘

انہوں نے جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا حوالہ دیا جس میں امن مذاکرات کے لیے شرائط طے کی گئی تھیں۔

پاسداران انقلاب نے بھی ہفتے کو واضح کرتے ہوئے کہا ’آبنائے ہرمز کھولنے کا اپنا ایک طریقہ کار ہے اور اس کا ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔‘

پاسداران انقلاب نے کہا ’دشمن ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مقرر کردہ شرائط کو قبول کرنے اور ایران، عمان اور دیگر ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں مداخلت سے باز رہنے پر مجبور ہے، جو تقریباً اپنے اختتامی مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *