سعودی عرب نے بدھ کو ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن پر حملوں کو برادر خلیجی و عرب ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کے اقدامات بحرین، کویت اور اردن کی خودمختاری اور فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو ان ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کا تسلسل علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے اور کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘
’سعودی عرب بحرین، کویت اور اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ان برادر ممالک کی جانب سے اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور اپنے شہریوں اور مقیم افراد کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔‘
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة المملكة العربية السعودية واستنكارها بأشد العبارات الاعتداءات الإيرانية الغاشمة والانتهاكات السافرة لسيادة كلٍ من مملكة البحرين الشقيقة ودولة الكويت الشقيقة والمملكة الأردنية الهاشمية الشقيقة، باعتبارها تهديداً لأمن وسلامة أراضي الدول الشقيقة… pic.twitter.com/XuXW0TO1Qq
— وزارة الخارجية (@KSAMOFA) June 10, 2026
سعودی عرب کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں تاخیر کی صورت میں ’اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں کچھ اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے بھی خطے کے کئی ممالک پر حملے کیے۔
ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے امریکی حملے کے بعد بحرین اور اردن میں ’امریکی فوجی اڈوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت نے بھی حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر چار اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کے بعد پاکستان نے بھی فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں، کیونکہ نئی فوجی کشیدگی سے بین الاقوامی سطح پر مہینوں سے جاری اس کوشش کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
