افغانستان کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان تعلیمی اداروں کو ڈی لسٹ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ تقریباً 1300 طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔
پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹس کا لائسنس جاری کرنے والے ادارے پی ایم ڈی سی نے ایک اعلامیے کے ذریعے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے میڈیکل یا ڈینٹسٹری کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پاکستان میں پریکٹس کے اہل نہیں ہوں گے۔
پی ایم ڈی سی نے 31 جولائی کو جاری اعلامیے میں کہا کہ کونسل کے 2025 کے فیصلے کے مطابق پاکستانی شہری صرف اسی صورت میں پاکستان میں پریکٹس کے اہل ہوں گے جب انہوں نے ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ای سی ایف ایم جی) سے تسلیم شدہ میڈیکل کالج سے ڈگری حاصل کی ہو۔
اعلامیے کے مطابق ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ ہی پی ایم ڈی سی کے زیرِ اہتمام نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) میں شرکت کر سکتے ہیں اور کامیابی کے بعد پاکستان میں بطور ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ پریکٹس کے اہل ہوتے ہیں۔
تاہم پی ایم ڈی سی کے مطابق افغانستان کا کوئی بھی میڈیکل ادارہ ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ نہیں، اس لیے وہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ این آر ای امتحان میں شرکت نہیں کر سکتے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’کسی بھی پاکستانی شہری کو کسی غیر ملکی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے سے قبل یہ تصدیق کر لینی چاہیے کہ آیا وہ ادارہ ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ ہے یا نہیں کیونکہ غیر تسلیم شدہ ادارے سے ڈگری حاصل کرنے کی صورت میں پی ایم ڈی سی کسی قسم کی رعایت نہیں دے گی۔‘
ای سی ایف ایم جی کیا ہے؟
ای سی ایف ایم جی ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو دنیا بھر کے میڈیکل کالجوں کی منظوری سے متعلق معیار طے کرتا ہے۔
پی ایم ڈی سی نے 2025 میں فیصلہ کیا تھا کہ صرف انہی غیر ملکی میڈیکل کالجوں کے فارغ التحصیل طلبہ کو این آر ای امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی جو ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ ہوں۔
انڈپینڈنٹ اردو نے ای سی ایف ایم جی کی ویب سائٹ پر افغانستان کے تسلیم شدہ میڈیکل کالجوں کی فہرست کا جائزہ لیا، جہاں افغانستان کا کوئی بھی میڈیکل کالج شامل نہیں۔
پی ایم ڈی سی کے اس فیصلے سے افغانستان کے مختلف میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم سینکڑوں پاکستانی طلبہ متاثر ہوں گے، جن کے مستقبل پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 1300 پاکستانی طلبہ مختلف شعبوں میں زیرِ تعلیم ہیں جبکہ وہاں موجود طلبہ کا کہنا ہے کہ ان میں اکثریت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
افغانستان میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کیا کہتے ہیں؟
خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے عزیر شاہ اس وقت افغانستان میں ایم بی بی ایس کے آخری سال کے طالب علم ہیں۔
عزیر نے بتایا کہ انہوں نے ستمبر 2022 میں افغانستان کے ایک میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اس وقت افغانستان کی تمام میڈیکل یونیورسٹیاں پی ایم ڈی سی کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل تھیں۔
عزیر شاہ کے مطابق 2025 میں پی ایم ڈی سی نے افغانستان کی تمام میڈیکل یونیورسٹیوں کو ڈی لسٹ کر دیا، جس کے بعد وہ این آر ای امتحان میں شرکت کے اہل نہیں رہے۔
انہوں نے کہا ’جب ہم نے داخلہ لیا تو افغانستان کی یونیورسٹیاں پی ایم ڈی سی کی منظور شدہ فہرست میں شامل تھیں، اسی بنیاد پر ہم نے تعلیم شروع کی۔
’اب بعد میں ان اداروں کو ڈی لسٹ کر کے ہمارے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ محدود مالی وسائل کے باعث وہ پاکستان یا کسی دوسرے ملک میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے، اسی لیے نسبتاً کم اخراجات کی وجہ سے افغانستان کا انتخاب کیا، مگر اب ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
عزیر شاہ نے حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ’ہماری مجبوری کو مدنظر رکھا جائے اور پی ایم ڈی سی سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔‘
افغانستان کے میڈیکل کالجوں میں زیادہ تر طلبہ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے کیونکہ وہاں میڈیکل کی تعلیم پشتو زبان میں بھی دی جاتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان انجینیئر احسان اللہ نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں اتار چڑھاؤ یا سیاسی تبدیلیوں کو طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور ڈگریوں سے جوڑنا ناانصافی ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ تعلیمی اداروں کی قانونی حیثیت مستقل ہوتی ہے جبکہ سفارتی تعلقات عارضی اور بدلتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’اگر کل ایک پیالی چائے پر سیاسی تعلقات بحال ہونے کے بعد یہی ڈگری قابل قبول ہو سکتی ہے تو آج میڈیکل طلبہ کو پریکٹس سے روکنے کا کیا جواز ہے؟ ریاستوں کے سیاسی تناؤ کی قیمت طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل سے وصول نہیں کی جانی چاہیے۔‘
اے این پی کے ترجمان نے کہا کہ سینکڑوں طلبہ و طالبات کی برسوں کی محنت، وقت، سرمایہ اور پیشہ ورانہ مستقبل کو ایک انتظامی فیصلے کی نذر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ طلبہ افغانستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ لے رہے تھے تو حکومت، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ ادارے کہاں تھے؟
’اگر ان اداروں کو ان ڈگریوں یا تعلیمی اداروں پر تحفظات تھے تو طلبہ کو بروقت آگاہ کیا جانا چاہیے تھا اور ایک واضح پالیسی دی جانی چاہیے تھی۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر اس معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور متاثرہ طلبہ کے لیے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی عبوری طریقۂ کار اور اہلیت کے امتحانات متعارف کرائیں۔
