پاکستان اور چین نے منگل کو افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رواں ہفتے اسلام آباد میں چینی وفد سے ہونے والے مذاکرات کے دوران کالعدم پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سے لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
محمد صادق اور چین کے خصوصی نمائندے یو شیاویونگ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب بیجنگ افغانستان کے معاملے میں زیادہ فعال سفارتی کردار اختیار کر رہا ہے۔
چین خطے کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدہ تعلقات اور سرحد پار شدت پسندی کے بڑھتے خدشات کے تناظر میں، جو علاقائی سلامتی اور چین کی بڑی سرمایہ کاری بشمول اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
چین کو اپنی سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی لاحق ہیں۔ بیجنگ طویل عرصے سے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ افغانستان سے سرگرم یہ گروہ چین کے سنکیانگ خطے کی علیحدگی کا خواہاں ہے اور خطے میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس سے روابط رکھتا ہے۔
چینی حکام بارہا افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو ایسے گروہوں کے استعمال سے روکے جو چین کے سکیورٹی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محمد صادق نے ملاقات کے بعد ایکس پر لکھا ’ہم نے افغان سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم سے لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے باہمی ہم آہنگی بڑھانے اور تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔‘
پاکستان متعدد بار افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کسی بھی گروہ کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
