ایمازون نے پانچ ہزار سے زائد سیٹلائٹس پر مشتمل ایک بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے موبائل فونز کو خلائی رابطہ (سپیس بیسڈ کنیکٹیویٹی) فراہم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) کو دی گئی درخواست میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے کم زمینی مدار (low earth orbit) میں سیٹلائٹس کی اجازت طلب کی ہے تاکہ 2028 تک براہِ راست ڈیوائس سے رابطے (Direct-to-Device یا D2D) کی سروس فراہم کی جا سکے۔
یہ موبائل سروس سپیس ایکس کے سٹارلنک نیٹ ورک کے لیے براہِ راست مقابلہ ہو گی، جس نے گذشتہ سال ٹی موبائل کے ٹی سیٹلائٹ برانڈ کے تحت سیٹلائٹ سے موبائل فون رابطے کی سہولت شروع کی تھی۔
یہ سروس کہیں بھی استعمال کی جا سکے گی، تاہم اس کی محدود بینڈوتھ کے باعث اس کا بنیادی ہدف ایسے صارفین ہوں گے جو دور دراز علاقوں میں رہتے یا کام کرتے ہیں جہاں زمینی موبائل ٹاورز کی رسائی نہیں۔
ایمازون کے مطابق ڈی ٹو ڈی سروس قدرتی آفات سے نمٹنے والی ٹیموں اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کو بھی بلا تعطل رابطے کی سہولت فراہم کرے گی۔
ایمازون نے کہا ’دنیا کے ان وسیع علاقوں میں جہاں موبائل فون انٹرنیٹ کنکشن کا بنیادی ذریعہ ہیں، ایل ای او ڈی ٹو ڈی سسٹم صارفین کو زیادہ رفتار اور بہتر ڈیٹا گنجائش فراہم کرے گا تاکہ وہ آج کے مقابلے میں زیادہ کام انجام دے سکیں۔‘
کمپنی کے مطابق ’یہ نظام کسی بھی ایسے موبائل ڈیوائس تک رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اس سے مطابقت رکھتی ہو، جس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تیار کردہ وہ بڑھتے ہوئے سمارٹ فونز بھی شامل ہیں جن میں سیٹلائٹ سے رابطے کے قابل چِپس پہلے سے نصب ہیں۔‘
ایمازون کی جانب سے ووڈافون اور ہیروٹل سمیت کئی ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے، جس کے تحت ایمازون لیو کا ڈی ٹو ڈی نظام موجودہ موبائل نیٹ ورکس میں شامل کیا جائے گا تاکہ کوریج کے خلا کو پُر کیا جا سکے۔
کمپنی نے ایپل کے ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت معاون آئی فون اور ایپل واچ ماڈلز کے لیے سیٹلائٹ سروسز فراہم کی جائیں گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان میں ایمرجنسی ایس او ایس اور فائنڈ مائی ڈیوائس جیسی سہولیات شامل ہیں۔
ایمازون لیو اپنے براڈبینڈ سیٹلائٹ نظام کے لیے تقریباً 400 سیٹلائٹس پہلے ہی خلا میں بھیج چکا ہے جبکہ اس سال کے آخر میں محدود پیمانے پر کمرشل انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
تاہم یہ تعداد سپیس ایکس کے سٹارلنک نیٹ ورک کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے، جس میں اس وقت 10 ہزار سے زائد سیٹلائٹس شامل ہیں۔
اس کے باوجود ایمازون لیو کا دعویٰ ہے کہ وہ جدید ترین اینٹیناز کی بدولت دنیا کی تیز ترین خلائی انٹرنیٹ سروس فراہم کرے گا۔
سپیس ایکس کے ساتھ ایمازون کی مسابقت کو رواں سال کے آغاز میں اس وقت دھچکا لگا جب کمپنی کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا کے کیپ کینیورل میں واقع لانچ پیڈ پر آزمائشی پرواز کے دوران پھٹ گیا۔
اس واقعے کے باعث وہ راکٹ، جسے ایمازون لیو کے سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا، رواں سال کے آخر تک گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
