لاہور: اٹارنی جنرل کے گھر چھاپہ، ٹیکنالوجی کے باوجود پولیس سے غلطی کیسے ہوئی؟

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی پولیس کی جانب سے شہریوں کے گھروں پر بغیر سرچ وارنٹ یا ٹھوس قانونی جواز کے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

منگل کے روز لاہور میں کینٹ کے علاقے سرور روڈ پر واقع اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کی رہائش گاہ پر تھانہ سرور روڈ پولیس نے چھاپہ مارا۔

قانونی ماہرین کے مطابق پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس بغیر سرچ وارنٹ یا خطرناک مجرم کی موجودگی کی مکمل تصدیق کے کسی عام شہری یا بڑی شخصیت کے گھر داخل نہیں ہو سکتی۔

تھانہ سرور روڈ میں پولیس نے اپنی مدعیت میں درج مقدمے میں اعتراف کیا کہ ایس ایچ او محمد عرفان نے 11 ملازمین کے ہمراہ گھر پر غلط ریڈ کیا۔ لہٰذا ایس ایچ او سمیت تمام پولیس ملازمین کو معطل کر کے چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پولیس نے قریبی گھر میں ملزمان کے تعاقب میں چھاپہ مارنا تھا لیکن غلطی سے ساتھ والے گھر میں داخل ہو گئی۔ لہٰذا اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل پاکستان کے گھر چھاپہ مارنے والے پولیس اہلکاروں نے عبوری ضمانت کے لیے سیشن کورٹ لاہور سے 12 اگست تک عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔

اس حوالے سے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ نہ ہی ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیل دی گئی ہے۔

پولیس قانونی طور پر چھاپہ مارنے کا کتنا اختیار رکھتی ہے؟

لاہور کے فوجداری مقدمات کے ماہر قانون فیصل باجوہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس علاقہ مجسٹریٹ سے کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر سرچ وارنٹ حاصل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

’اس کے علاوہ اگر کسی خطرناک یا سنگین مقدمے میں مطلوب ملزمان یا دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کسی گھر میں موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ہو تو ہی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

’لیکن لاہور جیسے شہر میں کینٹ کے سرور روڈ پر واقع اٹارنی جنرل جیسی شخصیت کے گھر چھاپہ مار کر غلط فہمی کا جواز قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔‘

چند روز قبل بھی لاہور کے ایک سول جج نے غیر ملکی خواتین سے زیادتی کے کیس میں زبردستی گھر میں گھس کر ملزمان کا ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔

فیصل باجوہ نے کہا کہ ’ہر دورِ حکومت میں پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور خاص طور پر 9 مئی کے واقعات کے بعد ملزمان کو گھروں سے گرفتار کرنے پر بہت حوصلہ مل چکا ہے۔

ان کے مطابق ’کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے ملزمان کو ماورائے عدالت قتل کرنا بھی اب معمول بن چکا ہے۔‘

بقول فیصل: ’جس طرح پولیس کے لیے کسی بھی ملزم کے خلاف غیر قانونی کارروائی کوئی معنی نہیں رکھتی، اسی طرح شہریوں کے گھروں میں گھس جانا بھی اہم نہیں سمجھا جاتا۔

’اٹارنی جنرل کے گھر سیف سٹی کیمروں کی پروا کیے بغیر داخل ہونا اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔

’لیکن ان اہلکاروں کے خلاف عام شہری کے گھر میں داخل ہونے کی دفعہ 357 لگائی گئی ہے، جسے سنگین جرم تصور نہیں کیا جاتا۔ محکمانہ طور پر معطلی بھی کوئی خاص سزا نہیں کیونکہ کچھ عرصے بعد بحال کر دیا جائے گا۔‘

پولیس چھاپے کا طریقۂ کار کیا ہوتا ہے؟

سابق آئی جی پنجاب پولیس چوہدری یعقوب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پولیس ایک سول محکمہ ہے جس کا فرض شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور جرائم پر قابو پانا ہے۔

’محکمہ پولیس کی کارروائیاں ہر کیس میں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ کسی بھی عام شہری کی درخواست پر، اگر اس کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہو، تو گرفتاری اور پھر تفتیش کا عمل شروع ہوتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’چوری، ڈکیتی، رہزنی، لڑائی جھگڑے، اغوا اور زیادتی جیسے کیسوں میں پولیس کو مختلف انداز سے کارروائی کرنا پڑتی ہے۔

’دوسرا طریقہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیوں کا ہوتا ہے، جن میں بڑے جرائم پیشہ گینگ یا دہشت گردی میں ملوث خطرناک ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان تمام کارروائیوں میں پولیس کو قانونی اختیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فرض پورا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن کسی شہری یا بڑی شخصیت کے گھر چھاپے کو مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ یقینی بنانا پڑتا ہے۔

’پہلے علاقہ مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اگر معاملہ حساس ہو تو متعلقہ حکومتی عہدیداروں اور پولیس حکام سے مشاورت بھی لازمی ہوتی ہے۔‘

بقول چوہدری یعقوب: ’جدید ٹیکنالوجی کی دستیاب سہولیات کے باوجود کسی گھر پر چھاپہ مار کر یہ کہنا کہ کہیں اور ریڈ کرنا تھا اور غلطی سے دوسرے گھر میں داخل ہو گئے، ناقابلِ قبول ہے۔

’کیونکہ پولیس کو اگر کسی جگہ جرم کی اطلاع ملتی ہے تو سب سے پہلے متعلقہ افسر کے لیے اس کی تصدیق کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے بعد اپنے اعلیٰ افسران کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے۔ یہ طریقۂ کار ہر متعلقہ افسر کے لیے لازمی ہے۔‘

فیصل باجوہ کے بقول: ’پولیس نے خود ہی کارروائی کرنی ہوتی ہے، اس لیے اختیارات سے تجاوز کا جرم کرنے کے باوجود قانونی لچک کا فائدہ اٹھا کر خود کو بچا لیتی ہے۔ اسی وجہ سے پولیس میں احتساب کا عمل ہمیشہ سے مشکوک رہا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *