پنجاب کے شہر سرگودھا میں پولیس نے بدھ کو بتایا کہ سات سالہ بچی منتہا زہرہ کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا زیر حراست مرکزی ملزم ارسلان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
پولیس ترجمان خرم علی نے بتایا کہ ارسلان اور اس کے چار ساتھیوں کو واقعے کے روز ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ان کے مطابق منگل کو ارسلان کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حوالے کیا گیا، جہاں سے اسے رات کے وقت آلۂ قتل کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں وہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
تھانہ سٹی سرگودھا میں درج مقدمے میں مقتول بچی کے والد محمد نعیم نے بتایا کہ پیر کو دن 11 بجے منتہا زہرہ قریبی حنیف کریانہ سٹور پر چیز لینے گئی لیکن واپس نہ آئی۔
’کچھ دیر بعد ہم نے تلاش شروع کی اور سٹور سے معلوم کیا لیکن وہ نہ ملی۔ دکان کے مالک محمد عباس نے پوچھنے پر کوئی جواب نہ دیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق نعیم نے کہا کہ انہوں نے جب دکان کی تیسری منزل پر جا کر دیکھا تو ارسلان انہیں دیکھ کر قریبی چھتوں سے پھلانگ کر فرار ہو گیا۔
نعیم نے بتایا کہ انہیں موقعے سے اپنی بیٹی زخمی حالت میں ملی اور وہ آخری سانسیں لے رہی تھی۔
نعیم کے بقول ’دکان کے مالک محمد عباس، محمد حنیف اور محمد احسان کی ایما پر ارسلان نے میری بچی کو ریپ کی کوشش کے دوران قتل کیا کیونکہ کچھ دن پہلے کریانہ مالکان سے میری لین دین پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔‘
’اس دوران انہوں نے مجھے دھمکی دی تھی کہ تمھیں ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ ساری عمر یاد رکھو گے۔‘
ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا ’پیر کو دن 12 بجے کے قریب پولیس کو اطلاع ملی کہ منتہا نامی بچی کریانہ سٹور پر گئی اور واپس نہیں آئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’لہذا متعلقہ تھانے کی پولیس تین منزلہ سٹور کی پہلی منزل چیک کرنے کے بعد جب دوسری منزل پر پہنچی تو اسے وہاں خون کے دو، تین قطرے فرش پر دکھائی دیے۔
’اسی منزل پر موجود واش روم کو کھولا گیا تو وہاں مزید خون کے نشانات پائے گئے جبکہ ساتھ موجود گٹر میں ایک چھری پڑی ہوئی تھی اور وہاں قریب 50 روپے بھی ملے جو شاید بچی کے تھے۔‘
صہیب اشرف نے مزید بتایا کہ دوسری منزل سے پولیس جب چابی لے کر سیڑھیوں کے راستے چھت پر گئی تو وہاں بوریوں اور کاٹھ کباڑ کے پیچھے سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس ترجمان کے مطابق بچی کا پوسٹ مارٹم اور تدفین ہو چکی ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔
غیر سرکاری تنظیم ساحل کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے اغوا اور ریپ جیسے کیسز میں آٹھ فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2025 کے دوران بچوں سے ریپ کے مجموعی طور پر 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔
ان واقعات کے متاثرین میں 1924 لڑکیاں، 1625 لڑکے اور116 نومولود بچے شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا 2025 کے دوران اوسطاً ایک دن میں نو سے زائد بچوں کا ریپ ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق سب زیادہ 73 فیصد کیس پنجاب سے جبکہ 21 فیصد کیس سندھ سے رپورٹ ہوئے۔
اسی طرح چار فیصد کیس خیبرپختونخوا اور دو فیصد کیس بلوچستان، وفاقی دارالحکومت، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوئے۔
