پینٹاگون نے ویب سائٹ پر ایران جنگ میں زخمی امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا دی

پینٹاگون نے اپنی ویب سائٹ پر خاموشی سے ایک نئی کیٹیگری شامل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ میں مزید 142 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اتوار کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں چار امریکی فوجیوں کی اموات کو بھی دوبارہ شامل کر لیا گیا جنہیں پہلے ڈیفنس کیجولٹی اینالیسس سسٹم سے ہٹا دیا گیا تھا، جس پر فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ، سابق فوجیوں اور قانون سازوں میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا تھا۔

نئی کیٹیگری ’اوورسیز آپریشنز‘ کے نام سے متعارف کرائی گئی ہے، جس میں سات جولائی کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں میں ہونے والے جانی نقصانات کو شمار کیا گیا ہے، جب کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آٹھ اپریل سے جاری ایک نازک جنگ بندی کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق مرنے والوں میں فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان، سارجنٹ اینجل ایس ریمپرسیڈ، پرائیویٹ ازابیلا گونزالیس اور سارجنٹ مائیکل ایمانوئل سوِنٹن شامل ہیں۔

اس سے پہلے کے نقصانات کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے نام سے درج کیا گیا ہے، جو اس جنگ کا نام ہے جس کا آغاز ٹرمپ نے 28 فروری کو کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا تھا۔

کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے جنگی نقصانات کو تاریخ کے حساب سے الگ کرنے کو ’بے معنی چال‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’پینٹاگون یہ تاثر دے رہا ہے جیسے دو الگ ایران جنگیں ہوئی ہوں جن کے درمیان صرف مختصر جنگ بندی تھی۔‘

پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں نے اتوار کی شب فوری طور پر دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

20  جولائی کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون نے رواں ماہ کے آغاز میں ایران کی جانب سے امریکی افواج پر کیے گئے تین حملوں میں ہونے والی درجنوں زخمیوں کی تعداد کو ظاہر نہیں کیا تھا۔

اخبار کے مطابق ان حملوں کی معلومات امریکی حکام سے ملی تھیں جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، اور ان حملوں میں کئی امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

رپورٹ شائع ہونے کے بعد پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سات جولائی کے بعد تقریباً 100 اہلکار کسی نہ کسی حد تک زخمی ہوئے، جن میں سے 96 فیصد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

انہوں نے لکھا: ’زیادہ تر زخم معمولی نوعیت کے تھے، جن میں ہلکے درجے کے دماغی صدمے (کنکشن) شامل ہیں۔ مزید اپڈیٹس ڈیفنس کیجولٹی اینالیسس سسٹم پر جاری کی جائیں گی۔‘

سی بی ایس نیوز نے نشاندہی کی کہ معمولی کنکشن میں ایسے دماغی مسائل بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔

ویب سائٹ پر ’آپریشن ایپک فیوری‘ اور ’اوورسیز آپریشنز‘ کے اعداد و شمار کو یکجا کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے دوران مجموعی طور پر 18 امریکی فوجی مارے گئے اور 624 زخمی ہو چکے ہیں۔

گارڈین کے مطابق اس سے قبل پینٹاگون نے زخمیوں کی تعداد صرف 482 بتائی تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *