ایران نے پیر کو کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جاری جنگ میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے قطر، پاکستان اور عمان کے ثالثوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالث ممالک کا کردار یہ ہے کہ وہ خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ قطر، پاکستان اور عمان سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے اور تنازع مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔
ایران نے اس بات پر زور دیا کہ ثالثی کی یہ کوششیں خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور مزید تصادم سے بچنے کے لیے اہم ہیں۔
یہ بیان آج صبح ہونے والے ان حملوں کے بعد آیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بیان دیا کہ اس نے ایران پر اپنے تازہ حملوں میں ایئر ڈیفنس سسٹم اور راڈار سائٹس سمیت درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
تازہ جھڑپ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری معاہدے کو کمزور کرنے والا تازہ ترین واقعہ ہے۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ نے عالمی معیشت کو شدید جھٹکوں سے دوچار کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پوسٹ پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ امریکی افواج کے تازہ حملے گرینچ معیاری وقت کے مطابق اتوار کو رات نو بجے شروع ہوئے۔ گذشتہ رات تقریباً 140 حملے کیے گئے تھے۔
ان تازہ حملوں میں امریکی افواج کے مطابق انہوں نے ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم، کوسٹل راڈار سائٹس، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت چھوٹی کشتیوں کو پہلی بار فضائی اور بحری ڈرونز سے بھی نشانہ بنایا۔
جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف اور اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کے کئی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اردن میں پرنس حسن ایئر بیس، بحرین میں امریکی فوج کے ڈرون کمانڈ سینٹر اور کویت میں علی السالم سمیت کئی فضائی اڈوں پر حملے کیے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ امریکی حملوں میں جنوبی اور مغربی ایران کے وسیع علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ قشم اور بندر عباس کے علاوہ عراق کی سرحد سے ملحقہ صوبہ خوزستان بھی شامل ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے جنوب مغربی علاقے میں امریکی حملوں سے ایک شخص جان سے گیا اور چار زخمی ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے جنگ بندی ختم ہونے کے اعلان کے بعد ثالث جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
