فراڈ نیٹ ورک: امریکہ سے فرار ہونے والا پاکستانی نژاد شخص قطر سے گرفتار

امریکی ریاست ٹیکساس کے مشرقی ضلعے کی وفاقی عدالت میں زیر سماعت ایک مقدمے میں مطلوب پاکستانی نژاد ملزم عبداللہ انور کو قطر سے گرفتار کرنے کے بعد امریکہ منتقل کر دیا گیا۔

13 جولائی، 2025 کو قطر میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں بتایا ’امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 28 سالہ عبداللہ انور پر بین الریاستی اور بین الاقوامی سطح پر چوری شدہ املاک کی نقل و حمل کی سازش، ڈاک اور برقی ذرائع سے دھوکہ دہی کی سازش اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد وفاقی الزامات عائد ہیں۔‘

 

بیان کے مطابق عبداللہ انور پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، تاہم وہ مقدمے کی کارروائی کے دوران امریکہ چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔

 

بعد ازاں انہیں قطر میں گرفتار کیا گیا، جہاں سے قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 10 جولائی کو امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ 

 

اس وقت وہ ریاست ٹیکساس کے کولن کاؤنٹی میں حکام کی تحویل میں ہیں۔

 

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کاش پٹیل نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بیرون ملک سے مطلوب افراد کی امریکہ واپسی کا یہ تئیسواں واقعہ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق عبداللہ انور مبینہ طور پر ایک ایسے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس سے گذشتہ پانچ برس کے دوران ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نیٹ ورک کے خلاف 2021 میں وسیع پیمانے پر کارروائی کی گئی تھی، جس میں جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے والے گروہوں، جعلی آلات بنانے والی فیکٹریوں اور مال بردار سامان کی چوری میں ملوث نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ مقدمہ محکمہ داخلی سلامتی کی مشترکہ ٹاسک فورس کے تحت چلنے والی تحقیقات کا حصہ ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور دیگر منظم جرائم کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے عبداللہ انور کی گرفتاری اور امریکہ منتقلی میں تعاون پر قطری وزارتِ داخلہ، سرکاری استغاثہ اور دیگر حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

 

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں اور عدالت کا فیصلہ آنے تک عبداللہ انور قانوناً بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *