وفاقی آئینی عدالت: مونال ریستوران گرانے کا فیصلہ کالعدم

وفاقی آئینی عدالت نے پیر کو اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع مونال ریستوران گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کر لیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس میں جاری حکم امتناعی بھی ختم کر دیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارشد حسین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی دائر کردہ اپیلیں منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اراضی کی ملکیت سے متعلق مقدمات کا فیصلہ ٹرائل کورٹس جلد از جلد میرٹ پر کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ انتظامی نوعیت سے متعلق معاملات کا فیصلہ مطلوبہ ریگولیٹری ادارے کریں گے جبکہ اراضی کی ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹس کریں گے۔

عدالت نے مزید کہا ’ٹرائل کورٹس کسی بھی عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کریں۔‘

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بہت سے نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

’سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کیس دائر کرنے یا نظر ثانی دائر کرنے پر بھی عدالت نے غیر ضروری برہمی کا اظہار کیا، ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا۔‘

یاد رہے جون 2024 میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع مونال سمیت تمام ریستورانوں کو تین ماہ (90 روز) میں بند کرنے اور وہاں سے منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ نیشنل پارک کی زمین کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد ازاں لقمان علی افضل کی ملکیت مونال ریستوران کی دائر نظر ثانی اپیلوں کو بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔

اس وقت سی ڈی اے نے اپیلیں دائر کی تھیں، جنھیں سماعت کے لیے مقرر نہیں گیا۔

تقریبا دو سال گزرنے کے بعد رواں برس ان اپیلوں پر سماعت کا آغاز ہوا۔

عدالت میں آج ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل احسن بھون نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے کیس کو بہت اچھا پڑھا، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا ’عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، جو سماعت ہوئی وہی حکم دیں گے، الف لیلی کی کہانی فیصلے میں نہیں لکھیں گے۔‘

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ فیصلہ پڑھا تو اندازہ ہوا کہ بہت کچھ عدالتی کارروائی سے باہر کا لکھا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *