’باہمی تجارتی معاہدے‘ کے لیے واشنگٹن میں پاکستان۔امریکہ مذاکرات

پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو روزہ اعلیٰ سطح کے تجارتی مذاکرات واشنگٹن میں جاری ہیں، جس کا مقصد ٹیرف کی کشیدگی کم اور وسیع تر اقتصادی شراکت داری کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 کے تحت عائد 10 فیصد عارضی امریکی ٹیرف اس ماہ کے آخر میں ختم ہونے والا ہے اور دونوں فریقین عارضی تجارتی اقدامات کے سلسلے کی جگہ زیادہ مستحکم دو طرفہ فریم ورک لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان امریکہ کے لیے اپنی برآمدات پر ڈیوٹی میں کمی کا بھی خواہاں ہے، جو کسی ایک ملک کے لحاظ سے اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ’باہمی تجارت کے معاہدے‘ کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ 

جمعرات اور جمعے کو مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچنے والے پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی سیکریٹری کامرس جواد پال کر رہے ہیں۔ بات چیت میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی، ٹیرف پالیسی کے جوائنٹ سیکریٹری اشفاق خان اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے سیکرٹری ندیم چوہدری بھی شامل ہیں۔ 

توقع ہے کہ دیگر وزارتوں کے اعلیٰ حکام ان مذاکرات میں ورچوئل شرکت کریں گے۔

طاہر اندرابی نے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ’مذاکرات کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، دو طرفہ تجارت میں سہولت فراہم کرنا، اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا اور موجودہ تجارت کو متنوع بنانے اور وسعت دینے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔‘

یہ مذاکرات ایک سال سے زیادہ عرصے سے بدلتے ہوئے امریکی تجارتی اقدامات اور قانونی چیلنجوں کے بعد ہو رہے ہیں، جنہوں نے پاکستانی برآمدات کے لیے ٹیرف کے منظر نامے کو بار بار تبدیل کیا ہے۔

اس تنازعے کا آغاز گذشتہ سال اپریل میں ہوا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی اقدامات کے ایک وسیع تر پیکیج کے حصے کے طور پر انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی حکام اور آفس آف دی یونائیٹڈ سٹیٹس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (یو ایس ٹی آر) کے درمیان مذاکرات کے بعد، پاکستانی اشیا پر مجوزہ ٹیرف کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا تھا۔

یہ انتظام فروری میں اس وقت درہم برہم ہو گیا جب امریکی سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے فیصلہ دیا کہ وائٹ ہاؤس نے آئی ای ای پی اے کے تحت وسیع ٹیرف عائد کر کے اپنے آئینی اختیار سے تجاوز کیا ہے، جس سے عملی طور پر یہ اقدام کالعدم ہو گیا۔

اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے 150 دن کے لیے 10 فیصد عارضی عالمی ٹیرف عائد کرنے کے لیے ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 کا استعمال کیا، یہ اقدام 24 جولائی کو ختم ہونے والا ہے۔

دوسری جانب، یو ایس ٹی آر نے گذشتہ ماہ جبری مشقت کے معیارات اور درآمدی پابندیوں سے متعلق سیکشن 301 کی تحقیقات کے بعد پاکستان اور دیگر 59 معیشتوں پر 10 فیصد ٹیرف کی تجویز دی۔

پاکستان نے مذاکرات سے قبل مجوزہ اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے قانونی اور ریگولیٹری دستاویزات جمع کروا دی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *