جنتر منتر پر نعرہ کشمیر

یہ پہلا موقع ہے جب انڈیا کے زیر اتظام جموں و کشمیر کی حزب اقتدار نیشنل کانفرنس نے ڈل جھیل کے کنارے پر قائم سنطور ہوٹل میں خطے کے دانشور، مورخ، تاجر سماجی کارکن اور ماہرینِ قانون کی ایک پر وقار مجلس کا انعقاد کیا اور دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجہ بحال کرنے کی احتجاجی تحریک کی حمایت حاصل کرنے کی سعی کی۔

سٹیج پر بیٹھے پارٹی کی لیڈرشپ کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا کہ حالات اچھے نہیں، مرکزی سرکار کی سخت گیر پالیسیوں اور جموں و کشمیر میں ہائبرڈ نظام کی طرزِ حکومت نے وزیراعلی عمر عبداللہ سمیت کابینہ کو جیسے تھکا دیا ہے اور وہ اس سے تنگ آ کر عوامی تحریک کا آغاز کرنے والے ہیں۔

مجلس کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق کچھ جذباتی ہو گئے اور مرکز کی اس خطے کے ساتھ کی جانی والی ناانصافیوں کا برملا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور جموں و کشمیر کے مابین جو ایک دوسرے پر اعتماد کے فقدان کی فضا ہے اس نے یہاں کی کئی نسلوں کو برباد کیا ہے۔

فاروق عبداللہ نے کہا: ’عدم اعتماد کی اس فضا کو ختم کرنا ہو گا، ریاست کو اپنی پوزیشن پر بحال کرنا ہو گا اور یہاں کے عوام کو یقین دہانی کروانی ہو گی کہ ان کے حقوق پر شب خون نہیں مارا جاتا ہے۔‘

گو کہ ڈاکٹر فاروق نے اقرار کیا کہ خطے کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قوم کی شناخت اور وقار کے لیے لڑنا ہو گا، مگر سول سوسائٹی کے بعض کارکنوں نے ان کی توجہ حالیہ انتخابات میں انہیں بھاری اکثریت کی جانب مبذول کروائی جب انہیں ریاست کا تشخص، شناخت اور وقار بحال کرنے کا بھاری منڈیٹ دیا گیا اور توقع تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے وہ مرکزی سرکار کے سامنے جھکنے کی بجائے اپنے حصول مطالبات کے لیے ڈٹے رہتے، جو حزب اقتدار نے ابھی تک نہیں کیا اور نہ بی جے پی کے سامنے دو ٹوک بات کرنے کی جرات کی، بلکہ حکومت سازی کو ترجیح دے کر اندرونی خود مختاری ختم کرنے کے مرکزی فیصلے کا قانونی جواز فراہم کر دیا۔

سول سوسائٹی نے سول نافرمانی کرنے، سخت گیر جوابی ردعمل دینے، ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے یا پھر بین اقوامی سطح پر اپنے مسئلے کو اٹھانے کی توجہ دلائی، جسے وزیراعلیٰ ایک اچھے بچے کی طرح اپنی ڈائری میں نوٹ کرتے رہے۔

نیشنل کانفرنس کی قیادت سے بظاہر اشارے مل رہے ہیں کہ بی جے پی کی مرکزی سرکار اس وقت تک ریاستی درجہ بحال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی جب تک این سی برسراقتدار ہے، حالانکہ بعض رپورٹوں کے مطابق وہ پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے بیشتر حربے بھی آزما چکی ہے۔

حکمران جماعت پر عدم اعتماد کی نظیر اس وقت مزید گہری ہو گئی جب ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین میں شرکت کرنے کے لیے بی جے پی کی مرکزی حکومت نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی بجائے سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی کو وفد میں شامل کر دیا، جس کے عوض افواہیں شروع ہو گئیں کہ بی جے پی اور پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کو ہٹانے میں پھر ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک جانب بی جے پی کا وار تو دوسری جانب نیشنل کانفرنس اندرونی خلفشار سے بھی گزر رہی ہے۔ این سی کے پارلیمانی رکن آغا روح اللہ نے پارٹی پر انتخابی منشور کو نظر انداز کرنے کا کئی بار الزام لگایا، جس کا مقصد اندرونی خود مختاری کی بحالی کے لیے مرکزی سرکار پر دباؤ ڈالنا تھا، جو بقول روح اللہ ابھی تک کاغذوں میں ہی قید رہا۔ اگر کبھی کبھار بات بھی کی تو اس میں وہ جوش یا جذبہ نہیں جس کا اظہار انتخابی مہم کے دوران ہوا تھا، جس کی بدولت نیشنل کانفرنس کو بھاری ووٹ دیا گیا۔

روح اللہ آج کل کچھ خاموش نظر آ رہے ہیں جبکہ بی جے پی کی نظریں روح اللہ سمیت دوسری جماعتوں کے نوجوان رہنماؤں پر ٹکی ہوئی ہیں اور آس لگائی بیٹھی ہے کہ نیشنل کانفرنس کو توڑ کر ایک نئی پارٹی کی بنیاد ڈال سکے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے کی تمام پارٹیوں کے حصے بخرے کیے جا سکتے ہیں، نیشنل کانفرنس کے نہیں جس کے ووٹر دہائیوں سے اس سے چمٹے ہوئے ہیں اور مرکز بھی پارٹی سے غداری نہیں کر سکتا۔ خود روح اللہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس سے نکل کر ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو سکتا ہے۔

خیال ہے کہ مرکزی حکومت این سی کو جنتر منتر پر جلسہ یا احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دے گی جہاں ہزاروں نوجوان کاکروچ پارٹی کے بینر تلے پہلے ہی بی جے پی کے وزیر تعلیم کے خلاف احتجاج پر بیٹھے ہیں۔

وہ پہلے ہی حکومت کے لیے بڑا سر درد ثابت ہو رہا ہے، ایسے میں جب کشمیر اسمبلی کے قانون ساز اور دیگر اراکین خطے کو بے اختیار کرنے کی بی جے پی کی پالیسی پر سے پردہ اٹھائیں گے تو بات صرف دہلی کے ایوانوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یورپ، امریکہ اور مشرق وسطی میں کشمیر کے مسئلے کی بازگشت دوبارہ سنائی دے گی، جن کو بی جے پی کے رہنماؤں نے کشمیر میں سب نارمل ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

بقول شاعر ؎ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔

کیا بی جے پی حالات کو مزید خراب اور کشمیر مسئلے کی دوبارہ تشہیر کی روک تھام کے لیے ریاستی درجہ بحال کرے گی؟ اس کی امید ابھی نظر نہیں آ رہی ہے بلکہ فی الحال سول سوسائٹی یا آر ایس ایس سے انڈیا پاک ڈائیلاگ کی رٹ لگا کر رائے عامہ کو کسی نئی پیش رفت کی جانب تیار کر رہی ہے۔

نعیمہ احمد مہجور کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور وہ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *