نشے نے سب چھین لیا، فٹ بال نے نئی زندگی دی: کراچی کے کوچ محمد عادل کی کہانی

شام ڈھلتے ہی کراچی کی بلوچ کالونی کے فٹ بال گراؤنڈ میں زندگی دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ ایک طرف سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کا شور سنائی دیتا ہے تو دوسری جانب میدان میں بچوں اور نوجوانوں کی آوازیں گونج رہی ہوتی ہیں۔

فٹ بال گراؤنڈ کے ایک کونے میں محمد عادل نوجوان کھلاڑیوں کو پاسنگ، ڈربلنگ اور فٹنس کی مشقیں کروا رہے ہوتے ہیں۔ چند برس پہلے تک وہ خود منشیات کی لت کا شکار تھے، لیکن آج وہ صرف فٹ بال نہیں سکھاتے بلکہ بچوں کو اس راستے سے بھی دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس نے کبھی ان کی اپنی زندگی کو اندھیروں میں دھکیل دیا تھا۔

محمد عادل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا، جب انہوں نے منشیات چھوڑ کر دوبارہ فٹ بال کے میدان کا رخ کیا۔

بلوچ کالونی میں پیدا ہونے والے محمد عادل نے بچپن میں فٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ علاقے میں لسانی اور سیاسی کشیدگی بڑھی تو کھیل کے میدان ویران ہونے لگے۔

وہ بتاتے ہیں کہ کھیل چھوٹنے کے بعد وہ غلط صحبت میں پڑ گئے اور آہستہ آہستہ منشیات کے عادی بن گئے۔

انہوں نے کہا: ’میں تقریباً چار سال تک تریاک، کرسٹل، ہیروئن اور آئس سمیت مختلف منشیات استعمال کرتا رہا۔ اس وقت زندگی کا کوئی مقصد نہیں تھا، بس ہر روز نشہ حاصل کرنا ہی سب کچھ بن گیا تھا۔‘

ان کے مطابق وہ مزدوری کرتے تھے، لیکن کمائی کا زیادہ تر حصہ منشیات پر خرچ ہو جاتا تھا۔

ایک لمحہ جس نے عادل کی زندگی بدل دی

محمد عادل کہتے ہیں کہ ایک روز نشے کے اڈے پر کھڑے ہوئے اچانک انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنی صحت، عزت اور مستقبل سب کچھ کھو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے اسی وقت اللہ سے دعا کی کہ مجھے اس دلدل سے نکال دے۔ اسی دن فیصلہ کیا کہ اب زندگی بدلنی ہے۔‘

ان کے مطابق منشیات چھوڑنے کے بعد انہوں نے دوبارہ اسی گراؤنڈ کا رخ کیا، جہاں کبھی وہ خود فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔

عادل کے مطابق جب وہ کئی برس بعد میدان میں پہنچے تو وہاں صرف چند بچے کھیل رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے سابق کوچ ہمیشہ انہیں واپس کھیل میں آنے کی تلقین کرتے تھے اور یہی بات ان کے لیے حوصلہ بنی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میں نے بچوں کو مفت کوچنگ دینا شروع کی۔ آہستہ آہستہ مزید بچے آنے لگے اور پھر بلوچ کالونی میں فٹ بال کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو گئیں۔‘

آج محمد عادل بلوچ کالونی یونائیٹڈ کے کوچ ہیں اور ان کے زیرِ تربیت کئی نوجوان مختلف سطحوں پر کھیل چکے ہیں، جبکہ بعض کھلاڑی بیرونِ ملک بھی فٹ بال کھیلنے کا موقع حاصل کر چکے ہیں۔

محمد عادل کہتے ہیں کہ وہ ہر نئے کھلاڑی کو اپنی زندگی کی داستان سناتے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ منشیات وقتی خوشی ضرور دیتی ہیں، لیکن آخرکار انسان سے اس کی صحت، عزت اور مستقبل سب کچھ چھین لیتی ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمارے علاقے میں آج بھی منشیات ایک بڑا مسئلہ ہے، اسی لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ بچے گراؤنڈ میں آئیں، کھیلیں اور مثبت سرگرمیوں سے جڑے رہیں۔‘

ان کے بقول اگر ایک نوجوان بھی منشیات سے بچ جائے تو وہ اپنی محنت کو کامیاب سمجھتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اگر ہم ایک بچے کو بھی اس راستے پر جانے سے روک لیں تو میرے لیے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسی مقصد کے لیے میں ہر روز اس گراؤنڈ میں آتا ہوں۔‘

محمد عادل کے شاگرد محمد زاہد کا تعلق کراچی کے علاقے لانڈھی سے ہے، مگر وہ فٹ بال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے باقاعدگی سے بلوچ کالونی آتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں مختلف جگہوں پر کھیل چکا ہوں، لیکن جتنی رہنمائی اور محنت عادل کوچ نے میرے اوپر کی، وہ کہیں اور نہیں ملی۔ اسی لیے میں لانڈھی سے یہاں ٹریننگ کے لیے آتا ہوں اور رشتہ داروں کے گھر قیام کرتا ہوں۔‘

محمد زاہد کے مطابق انہیں بچپن سے فٹ بال کا شوق تھا اور خاندان میں بھی کئی افراد اس کھیل سے وابستہ رہے ہیں، لیکن ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں عادل کوچ کا اہم کردار ہے۔

محمد عادل کے ایک اور شاگرد عبدالمعیز نے بتایا کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں بلوچ کالونی یونائیٹڈ میں ٹریننگ شروع کی تھی۔

بقول عبدالمعیز: ’عادل کوچ نے پہلے میری بنیادی تربیت کی، پھر مزید ٹریننگ کے لیے لیاری بھیجا۔ بعد میں میرا کراچی یونائیٹڈ کے ٹرائلز میں انتخاب ہوا، جہاں چند ہفتے کھیلنے کے بعد مجھے قطر جا کر کھیلنے کا موقع بھی ملا۔ اگر کوچ میری رہنمائی نہ کرتے تو شاید میں یہاں تک نہ پہنچ پاتا۔‘

محمد عادل کے ایک شاگرد سالار قاسم کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے اسی گراؤنڈ میں ٹریننگ کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے علاقے میں فٹ بال کا ماحول بدلتے دیکھا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پہلے یہاں فٹ بال صرف گلیوں تک محدود تھی، آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم سے بڑے کئی نوجوان کھیل چھوڑ کر منشیات کی لت میں مبتلا ہو گئے، لیکن اب عادل کوچ کی وجہ سے حالات بدل رہے ہیں۔‘

سالار کے مطابق آج گراؤنڈ میں روزانہ درجنوں بچے تربیت حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا: ’یہاں آ کر ہم صرف فٹ بال نہیں سیکھتے بلکہ منشیات جیسی برائیوں سے بھی دور رہتے ہیں۔ یہی اس گراؤنڈ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *