29 جون کو آغا خان یونیورسٹی، کراچی میں منعقدہ ایک سیمینار میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کراچی کے کم آمدنی والے علاقوں میں خسرہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آیا ہے جبکہ غذائی قلت، انفیکشن اور حادثات بھی بچوں کی اموات کی نمایاں وجوہات ہیں۔
چائلڈ ہیلتھ اینڈ مورٹیلٹی پری وینشن سرویلنس (Champs) پاکستان کے تحت کی جانے والی اس تحقیق میں کراچی کے علی اکبر شاہ گوٹھ، بھینس کالونی اور ابراہیم حیدری ایکسٹینشن کے علاقوں میں بچوں اور مردہ پیدائشوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات تقریباً 56 فی ایک ہزار زندہ پیدائش جبکہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 36 فی ایک ہزار زندہ پیدائش ہے۔
چائلڈ ہیلتھ اینڈ مورٹیلٹی پری وینشن سرویلنس پاکستان نے بچوں میں موت کی وجہ جاننے کے لیے کراچی کے تین مضافاتی علاقوں بھینس کالونی، ابراہیم حیدری اور علی گوٹھ میں تحقیقات شروع کی۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2023 سے جون 2026 تک پروگرام کے تحت ان علاقوں میں ایک ہزار 799 اموات کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں ایک ہزار 524 زندہ پیدائشوں کے مقابلے میں 275 مردہ پیدائشوں کے واقعات شامل تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس عرصے کے دوران 220 کم سے کم مداخلت والے بعد از وفات معائنے Minimally Invasive Tissue Sampling یعنی MITSاور 910 روایتی تحقیقات مکمل کی گئیں جبکہ 386 خاندانوں نے تحقیق میں حصہ لینے سے انکار کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 734 نوزائیدہ بچوں، 481 ایک ماہ سے ایک سال عمر کے بچوں اور 309 ایسے بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں جن کی عمریں ایک سے پانچ سال کے درمیان تھیں۔
تحقیق میں خسرہ بچوں کی موت کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے علاوہ نمونیہ، شدید انفیکشن پیدا کرنے والے جراثیم، ڈینگی اور دیگر متعدی امراض بھی بچوں کی اموات کی وجوہات میں شامل رہے۔
چیمپس پاکستان کے شریک سربراہ اور آغا خان یونیورسٹی کے شعبۂ اطفال و صحتِ اطفال کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مومن قاضی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ اس تحقیق کا مقصد ہسپتالوں سے باہر کمیونٹی کی سطح پر بچوں کی اموات کی اصل وجوہات معلوم کرنا ہے۔
ان کے بقول: ’اب تک کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں زچہ اور بچے سے متعلق پیچیدگیاں، غذائی قلت اور انفیکشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حادثاتی اموات بھی سامنے آئی ہیں، مثلاً بچے کا پانی کی ٹینکی، بالٹی یا گٹر میں گر جانا۔‘
ڈاکٹر مومن قاضی نے کہا کہ بعض وجوہات مقامی سماجی اور ثقافتی عوامل سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جو ہمارے معاشرتی تناظر سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر ایک نوزائیدہ بچے کو بروقت دودھ نہ مل سکا کیونکہ گھر کے بڑے مچھلی پکڑنے گئے ہوئے تھے اور بچے کو اذان نہ مل سکی تھی، جس کے باعث بچے کو ماں کا دودھ ملنے میں تاخیر ہوئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے دوران خاندان کی رضامندی سے بچوں کے دماغ، دل، پھیپھڑوں، جگر اور دیگر اعضا کے چھوٹے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں خون، دماغی رطوبت اور ناک کے نمونے بھی لیے جاتے ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
ڈاکٹر مومن قاضی کے مطابق: ’گذشتہ تین برسوں میں ہم تقریباً 210 کم سے کم مداخلت والے نمونے (MITS) اور 900 سے زیادہ ایسے کیسز کا جائزہ لے چکے ہیں جن میں صرف زبانی معلومات اور طبی تاریخ کی مدد سے اموات کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق کے ساتھ ساتھ ٹیم ہر ماہ پانچ سے دس ہزار افراد سے ملاقات کر کے انہیں بچوں کی اموات کی وجوہات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔
ان کے مطابق: ’ہم صرف معلومات جمع نہیں کر رہے بلکہ کمیونٹی کو مسلسل یہ بھی بتا رہے ہیں کہ بچوں کی اموات کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔‘
چیمپس پاکستان کے شریک محقق اور آغا خان یونیورسٹی کے شعبۂ اطفال سے وابستہ ڈاکٹر راحیل الانا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کی موت کی اصل وجہ سے آگاہ نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا: ’بچوں کی اموات کی تین بڑی وجوہات ہمارے سامنے آئی ہیں، جن میں انفیکشن، حمل اور زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اور غذائی قلت شامل ہیں۔‘
ان کے مطابق تحقیق کے دوران حاصل کیے گئے نمونوں کے تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ متعدد بچے ایسی بیماریوں کے باعث جان سے محروم ہوئے, جن کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن تھا۔
ڈاکٹر راحیل الانا نے بتایا کہ بعض خاندان نمونے لینے کی اجازت نہیں دیتے، ایسے خاندانوں سے ایک ہفتے بعد تفصیلی انٹرویو کیا جاتا ہے تاکہ موت کی ممکنہ وجوہات معلوم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا: ’ان انٹرویوز سے یہ بھی سامنے آیا کہ بعض بچوں کی اموات سماجی اور حادثاتی عوامل کے باعث ہوئیں، جن میں بچوں کا گٹر، دریا یا پانی سے بھری بالٹی میں گر جانا شامل ہے۔‘
ماہرین کے مطابق اس تحقیق کا مقصد بچوں میں شرحِ اموات کو روکنے، بچوں کی بیماریوں سے متعلق والدین کو آگاہی اور سرکاری حکام کو مضافاتی علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کروانا ہے۔
