تنقید کے بعد ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو نیٹو رہنماؤں کے ساتھ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے۔

 خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس اجلاس میں مغربی دفاعی اتحاد کے رکن ممالک یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

دو روزہ نیٹو اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی توجہ یورپ کے دفاع سے ہٹ کر ایشیا کی جانب بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ ماضی میں کئی بار نیٹو پر تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ امریکی قیادت اور طاقت کے بغیر اتحاد مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتا۔

جمعرات کو اپنی ایک سوشل میڈیا میں پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نیٹو پر کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے تاکہ ان کا دفاع کر سکے۔

’جبکہ اس کے بدلے میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ امریکہ 999 ارب ڈالر، برطانیہ 90.5 ارب ڈالر، فرانس 66.5 ارب ڈالر، اٹلی 48.8 ارب ڈالر اور پولینڈ 44.3 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ دیگر ممالک، جن میں جرمنی بھی شامل ہے، اس سے کہیں کم خرچ کرتے ہیں۔ (2014 تا 2025)۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔‘

ٹرمپ 20 مارچ، 2026 کو اپنی ایک اور پوسٹ میں ایران جنگ میں ایران کے خلاف مدد نہ کرنے پر نیٹو اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ اور ’بزدل‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔

اجلاس کے آغاز سے قبل نیٹو نے اربوں ڈالر مالیت کے متعدد دفاعی منصوبوں کا اعلان کیا، جن کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ رکن ممالک اضافی دفاعی اخراجات کو عملی عسکری صلاحیتوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، جو اس سال نیٹو اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں، نے ٹرمپ کا استقبال کیا۔

اجلاس میں روس یوکرین جنگ اور یورپی اتحادیوں کے دفاعی اخراجات میں اضافے سمیت مختلف امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے دفاعی صنعت سے متعلق ایک فورم میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری ’درست جگہ خرچ ہونے والا پیسہ‘ ہے۔ اسی موقع پر کئی دفاعی معاہدوں اور عسکری منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔

اعلان کردہ منصوبوں میں نیٹو کے زیر استعمال تقریباً 50 سال پرانے ایواکس نگرانی طیاروں کو تبدیل کرنے کا پروگرام بھی شامل ہے۔

سویڈن کی کمپنی ساب 10 تک نئے گلوبل آئی نگرانی طیارے فراہم کرے گی۔

ادھر نیدرلینڈز نے بھی دفاعی تعاون بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ڈچ وزارتِ دفاع کے مطابق برطانیہ کے ساتھ نئی آبی حملہ آور نقل و حمل کی کشتیوں اور دیگر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ نگرانی طیاروں کی تبدیلی پر کام کیا جائے گا۔

نیدرلینڈز امریکی ساختہ میزائل نظاموں کی مشترکہ تیاری اور دیکھ بھال کے ایک یورپی منصوبے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اجلاس سے قبل کہا کہ ان کے ملک نے 2022 کے بعد دفاعی اخراجات دوگنا کر دیے ہیں۔

 ان کے مطابق روس بدستور ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور انقرہ سے طاقت اور اتحاد کا واضح پیغام جانا چاہیے۔

دوسری جانب کریملن نے کہا ہے کہ وہ نیٹو اجلاس پر گہری نظر رکھے گا۔

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے سے روس اپنے اہداف سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ترکی میں اجلاس کے دوران نیٹو مخالف مظاہرے بھی ہوئے، جہاں پولیس نے وسطی انقرہ میں احتجاج کرنے والے 20 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے نیٹو ممالک کے درمیان دفاعی صنعت سے متعلق پابندیوں کو اتحاد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *