پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہفتے کو کہا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی دو الگ کارروائیوں کے دوران آٹھ عسکریت پسند جان سے گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان کے مطابق بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں تین عسکریت پسند جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ مستونگ میں ہونے والی دوسری کارروائی میں ایک خودکش حملہ آور سمیت پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔
پاکستان فوج نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈیز) اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں مزید ’انڈیا کے حمایت یافتہ دہشت گردوں‘ کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
اس بیان پر انڈیا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہفتے کی سہ پہر کو کوئٹہ کے نواحی علاقے میاں غنڈی لنک روڈ پر دشت پولیس تھانے کی گاڑی کے قریب بم دھماکا ہوا، ایس ایچ او دشت اختر محمد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکے میں چار اہلکار معمولی زخمی ہو گئے اور پولیس کی گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا جب کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مگر نسبتاً کم ترقی یافتہ صوبہ بلوچستان، جو ایران اور افغانستان سے متصل ہے، کئی برسوں سے علیحدگی پسند شورش کا مرکز رہا ہے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران شدت آئی ہے۔
بلوچستان میں حالیہ عرصے میں غیر ملکی شہریوں، ترقیاتی منصوبوں، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان متعدد بار الزام عائد کر چکا ہے کہ انڈیا بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
