فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر جارحانہ انداز میں انحصار کرنے کی حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد اسے سینکڑوں انسانی ملازمین کو دوبارہ بھرتی کرنا پڑا۔
امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے گذشتہ تین برسوں کے دوران 350 سے زائد تجربہ کار انجینیئرز، جنہیں کمپنی کے اندرونی حلقوں میں ’گرے بیئرڈز‘ کہا جاتا ہے، دوبارہ ملازمت پر رکھا تاکہ خودکار نظاموں کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ انجینیئر معیار (کوالٹی) کا جائزہ لینے کی قیادت کریں گے کیونکہ خودکار نظاموں کی خامیوں نے کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
ان میں سے بعض ماہرین مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنانے اور اس کی تربیت میں بھی معاونت کریں گے۔
فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے کہا ’ہم معیار جانچنے کے لیے خودکار نظاموں پر بڑھتے ہوئے انحصار کر رہے تھے، لیکن ہمیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم نے تکنیکی ماہرین کو دوبارہ واپس بلایا، جو کسی بھی پرزے کے فیکٹری کی پروڈکشن لائن تک پہنچنے سے پہلے ہی ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘
فورڈ نے پیداوار کو زیادہ مؤثر بنانے اور معیار پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے معائنہ جاتی نظاموں پر انحصار بڑھا دیا تھا۔
تاہم کمپنی نے تسلیم کیا کہ پیچیدہ مسائل سے نمٹنے میں اے آئی انسانی تجربے اور باریک بینی پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
تجربہ کار انجینیئرز کی دوبارہ بھرتی کے بعد فورڈ کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔
نئی گاڑیوں کے معیار کا جائزہ لینے والے سالانہ جے ڈی پاور انیشل کوالٹی سروے کے مطابق فورڈ نے عام صارفین کے لیے گاڑیاں بنانے والے برانڈز میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی، جو گذشتہ 16 برسوں میں اس کی پہلی کامیابی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ فورڈ کو اپنی پرانی گاڑیوں کے معیار سے متعلق مسائل کا اب بھی سامنا ہے اور وہ امریکہ میں سب سے زیادہ گاڑیاں واپس منگوانے (ریکال) والی کمپنی برقرار ہے۔
تاہم کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ماضی میں خودکار نظاموں سے متعلق مسائل ہیں، نہ کہ انسانی انجینیئرز کی دوبارہ بھرتی۔
کمپنی نے واضح کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ترک نہیں کرے گی بلکہ آئندہ اسے انسانی نگرانی اور تجربے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے گا۔
فورڈ میں وہیکل ہارڈویئر انجینیئرنگ کے نائب صدر چارلس پون نے کہا ’مصنوعی ذہانت ایک شاندار ٹول ہے، لیکن اس کی کارکردگی کا انحصار اس معلومات کے معیار پر ہوتا ہے جس سے اسے تربیت دی جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’گذشتہ برسوں میں ہم نے اپنے ان باصلاحیت اور تجربہ کار انجینیئرز کی مہارت کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی، جو کئی نسلوں کی مصنوعات پر کام کر چکے تھے۔‘
’ہم نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرانے اور اسے ہمارے ڈیزائن کی ضروریات فراہم کر دینے سے ہی اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار ہو جائیں گی۔‘
