واشنگٹن کی جانب سے جمعے کو تہران پر مال بردار بحری جہاز پر حملے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر فوجی حملے کیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو محدود کرنے کی سفارت کاروں کی کوششوں کے دوران نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار ٹھکانوں پر امریکی حملے ’ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلا جواز جارحیت‘ کا جواب ہیں جو ’جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی‘ ہے۔
امریکی سینٹ کام نے اس آپریشن کو ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر گذشتہ کل ہونے والے حملے کا ایک طاقتور جواب‘ قرار دیا۔
دوسری جانب سیرک میں ایک رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ جمعے کی رات گئے جنوبی ساحلی شہر میں طاہرویہ کے گھاٹ پر ایک دھماکا سنا گیا۔ ٹی وی نے باخبر فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ علاقے میں کسی گولے کے گرنے سے ہوا۔
چند منٹ بعد، ایرانی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح، سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی کہ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹیلی گرام پر سرکاری ٹی وی کی ایک پوسٹ کے مطابق، پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’اگر جارحیت کو دہرایا گیا تو ہمارا جواب اس سے زیادہ وسیع ہو گا۔‘
ان حملوں کے تبادلے نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی کوششوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران اس جنگ کے حتمی حل کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں جس کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا۔
ایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آبنائے کے راستے خلیج میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں سے نکلیں، لیکن جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے، اور کچھ تہران کی جانب سے غیر منظور شدہ راستہ بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ٹریکنگ پلیٹ فارم کپلر کے مطابق، جمعرات کو وہاں سے گزرنے والے 42 بحری جہازوں میں سے تقریباً آدھے جہازوں نے عمان کے ساحل کے ساتھ ایک غیر منظور شدہ جنوبی راستہ استعمال کیا۔
اقوام متحدہ کی بحری ایجنسی نے کہا کہ حملے کی وجہ سے معطل ہونے سے قبل، انخلا کے ایک آپریشن نے تنازعے میں پھنسے 115 بحری جہازوں اور 2500 ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔
’تشدد کا جواب تشدد سے‘: جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے مزید کوئی حملہ کیا تو اسے ’تشدد‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وینس نے ایکس پر مفاہمت کی اس یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کا مقصد تقریباً چار ماہ پر محیط تنازعے کو روکنا تھا، سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ہم نے اس کی پاسداری کی ہے۔ اگر انہیں مفاہمت کی یادداشت پر عمل
درآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف ہے تو وہ فون کر سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی ڈرون حملہ جنگ کی احمقانہ خلاف ورزی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو آبنائے ہرمز میں ڈرون حملہ کرنے پر ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مشرق وسطی کی جنگ میں جنگ بندی کی ’احمقانہ‘ خلاف ورزی قرار دیا۔
ٹرمپ نے بظاہر گذشتہ روز ایک بحری جہاز پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا کہ ’ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی مہنگے مال بردار بحری جہاز کے اوپری عرشے پر زور سے ٹکرایا‘ جب کہ تین دیگر کو مار گرایا گیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ‘ظاہر ہے، یہ ہمارے جنگ بندی کے معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی ہے۔‘
