بالاخر پاکستان اور انڈیا برسوں سے باضابطہ مذاکرات معطل ہونے کے باوجود ایک بار پھر خاموشی سے آمنے سامنے آئے ہیں۔ اس بار ملاقات سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہوئی۔
یہ ایک ’ٹریک 1.5‘ سفارتی مکالمہ تھا۔ سفارت کاری میں ’ٹریک ون‘ سے مراد حکومتوں کے درمیان براہِ راست اور سرکاری مذاکرات ہوتے ہیں جبکہ ’ٹریک ٹو‘ غیر رسمی بات چیت ہوتی ہے، جس میں سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی افسران، ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔
’ٹریک 1.5‘ ان دونوں کے درمیان کی ایک شکل ہے۔ یعنی مکمل طور پر سرکاری بھی نہیں اور مکمل غیر رسمی بھی نہیں۔ اس میں دونوں ممالک کے نمائندے بغیر کسی باضابطہ وعدے کے ایک دوسرے کو پیغام دے سکتے ہیں، تجاویز آزما سکتے ہیں اور رابطے کا سلسلہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے۔
دفترِ خارجہ کے سورسز نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ کولمبو میں ہونے والے مذاکرات میں پانی، فضائی حدود، بحران کے دوران رابطوں کے نظام اور آئندہ کشیدگی سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوئی۔
’ساؤتھ ایشیا انڈیکس‘ نے رپورٹ کیا کہ انڈیا نے پاکستان کو بتایا کہ وہ دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے سے متعلق انتظامات بحال کرنے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ اس کے بدلے میں انڈیا نے مبینہ طور پر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ انڈین فضائی کمپنیوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود دوبارہ بغیر کسی پابندی کے کھولی جائیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان نے انڈین فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں، جس کے باعث انہیں طویل فضائی راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس غیر رسمی مکالمے میں دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے حاضر سروس حکام نے بھی شرکت کی، جو اس قسم کے انفارمل مذاکرات میں غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے سینیٹر شیری رحمٰن اور صحافی نسیم زہرہ ان مذاکرات میں شریک تھے جب کہ انڈیا کی نمائندگی حکمران جماعت کے رہنما رام مادھو، سابق آرمی چیف جنرل منوج نرواڻے، سابق سفارت کار روچی گھنشیام اور وویک کاٹجو نے کی۔
یہ مکالمہ کولمبو میں منعقد ہوا، جس میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ کیا یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی بڑی پیش رفت ہے؟ اس کا جواب ابھی دینا قبل از وقت ہو گا۔ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب باضابطہ مذاکرات تقریباً منجمد ہیں، ایسے میں دونوں ممالک نے کم از کم رابطے کا ایک خاموش راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔
