بے زبانوں کے درد کی داستان

انسانی تاریخ کے تاریک صفحات کا ایک تلخ ترین سچ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ جسم کے زخموں کو تو دیکھا، مگر روح کے چھالوں کو نظر انداز کر دیا۔

جسمانی امراض کے مقابلے میں ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی کرب کو ہمیشہ ایک ثانوی حیثیت دی گئی، حالانکہ جدید علم و دانش اب یہ ثابت کر چکے ہیں کہ احساسِ زیاں صرف انسان کی جاگیر نہیں۔

خوف، ملال، محبت، محرومی اور صدمے کی تپش جانور بھی اتنی ہی شدت سے محسوس کرتے ہیں اور یہ زخم ان کی زندگیوں پر بھی عمر بھر کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔

آج دنیا حیوانی نفسیات اور ان کے برتاؤ میں چھپے دکھ سکھ کو سمجھ رہی ہے، یہاں تک کہ پودوں کے باہمی رابطوں اور ماحولیاتی دھڑکنوں کو بھی ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن اس شعور کے برعکس، پاکستان جیسے معاشرے میں انسانوں اور جانوروں دونوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے جہاں تشدد، تذلیل اور بے حسی کو روزمرہ کا معمول سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی نفسیاتی، سماجی اور دماغی کیفیات ہیں جو کسی انسان کو سفاکی کی دلدل میں اس حد تک دھکیل دیتی ہیں کہ وہ ظلم کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔

نفسیات اور اعصابی سائنس کے مطابق ہر ظالم شخص لازمی طور پر کسی مخصوص ذہنی مرض کا شکار نہیں ہوتا، تاہم مسلسل تشدد کا ماحول، ہمدردی کی پامالی، دوسروں کے درد سے لاتعلقی، بے قابو غصہ، بچپن کے ان مٹ صدمات اور نامناسب سماجی تربیت وہ عوامل ہیں جو رفتہ رفتہ انسان کے اندر سے انسانیت کھرچ دیتے ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تشدد پسند افراد کے دماغ میں ہمدردی اور درد محسوس کرنے والے گوشے کمزور پڑ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دوسروں کے چہروں پر پھیلا خوف، تکلیف اور ملال پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ پے در پے ظلم کرتے ہوئے کانپتے نہیں اور سفاکی ان کا چلن بن جاتی ہے۔

پاکستان میں اس رویے کی جڑیں اس اجتماعی نفسیات سے جڑی ہیں جہاں گھریلو تشدد، معصوم بچوں کو ماردینا یا انہیں حبسِ بے جا میں رکھ کر تڑپانا، خواتین پر تیزاب پھینکنا، کمزوروں کی تذلیل اور طاقت کے بھیانک استعمال کو معاشرتی خاموشی یا قبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔

جب ایک بچہ ایسے ماحول میں آنکھ کھولتا ہے جہاں مارپیٹ، گالیاں، دھمکیاں اور تحقیر عام ہو تو اس کا معصوم ذہن اسی زہر کو زندگی کا اصل سچ مان لیتا ہے اور بڑا ہو کر وہ اسی تشدد کو دوسروں پر دہراتا ہے، جسے ماہرین تشدد کا ایک لامتناہی چکر کہتے ہیں۔

پاکستان کے گلی کوچوں میں جانوروں کے ساتھ ہونے والا وحشیانہ سلوک اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہم نے پچھلی کئی دہائیوں سے بے زبانوں کے حقوق کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔

گدھوں اور گھوڑوں پر ان کی سکت سے زیادہ بوجھ لاد کر انہیں بے رحمی سے پیٹنا، سڑکوں پر مٹر گشت کرتے آوارہ کتوں کو زہر دے کر یا گولی مار کر اجتماعی طور پر مار دینا اور پرندوں و پالتو جانوروں کو شدید گرمی اور بھوک میں چھوٹے پنجروں میں قید رکھنا اب کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔

سائنسی شواہد اس پرانے مغالطے کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ جانور صرف مٹی کے بے جان مادے یا جبلت کے محتاج ہیں، بلکہ کتے، بلیاں، ہاتھی اور گھوڑے جیسے ان گنت جان دار تنہائی، اضطراب، اداسی اور گہرے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

مسلسل مارپیٹ، بھوک کی شدت اور خوف کے سائے میں رہنے والے جانوروں کا اعصابی اور ہارمونل نظام اس حد تک بکھر جاتا ہے کہ وہ یا تو شدید جارحیت پسند ہو جاتے ہیں یا پھر کھانا پینا چھوڑ کر ایک گہری، خوفناک خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک چونکا دینے والی سچائی یہ بھی ہے کہ جانوروں پر ظلم دراصل انسانوں پر ہونے والے تشدد کا پیش خیمہ ہوتا ہے، کیونکہ جو لوگ بے زبان جانوروں کو اذیت دے کر یا انہیں مار کے تسکین حاصل کرتے ہیں، آگے چل کر ان میں گھریلو تشدد، قتل و غارت اور سنگین جرائم کا رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

آخر کوئی شخص یا معاشرہ اس حد تک سفاک اور اموات پر خاموش رہنے کا عادی کیسے ہو جاتا ہے؟ اسے نفسیات کی زبان میں احساس کی موت یا ڈی سین سیٹائزیشن کہا جاتا ہے۔

جب آنکھیں روزانہ سڑکوں پر خون بہتا دیکھیں، بچوں پر ظلم اور جانوروں کی بے رحمانہ مار پیٹ کے مناظر عام ہو جائیں، تو دل کے اندر کسی کے درد پر کڑھنے والا تڑپتا ہوا جذبہ مر جاتا ہے اور جو عمل پہلی بار روح کو جھنجھوڑتا ہے، وہ بار بار دہرائے جانے پر زندگی کا ایک عام اور بے ضرر حصہ معلوم ہونے لگتا ہے۔

پاکستان میں صورت حال اس لیے بھی زیادہ ابتر ہے کیونکہ یہاں ذہنی صحت پر بات کرنا ایک عیب یا گناہ سمجھا جاتا ہے اور نفسیاتی امراض کو جادو ٹونا، آسیب یا کردار کی کمزوری قرار دے کر اصل مسئلے سے نظریں چرا لی جاتی ہیں۔

غفلت، غربت، ناخواندگی، کمزور قانون اور حیوانات کی فلاح کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا اس آگ پر تیل کا کام کرتا ہے، جس کی وجہ سے نہ تو بروقت انسانوں کا نفسیاتی علاج ہوتا ہے اور نہ ہی ظلم کے اس چکر کو توڑا جا سکتا ہے۔

انسانیت کا اصل معیار یہ نہیں کہ آپ کے ہاتھ میں طاقت کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے دل میں کائنات کی کمزور ترین مخلوق کے لیے ہمدردی کتنی ہے۔ ایک صحت مند اور خوبصورت معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں بچوں کو خوف نہیں محبت ملے، عورتوں کو احترام حاصل ہو اور جانوروں کو محض بے زبان مخلوق نہیں بلکہ احساس رکھنے والی زندہ ہستیاں سمجھا جائے۔

ظلم، سفاکی اور قتل و غارت گری محض اخلاقی برائیاں نہیں بلکہ ان کے پیچھے پیچیدہ نفسیاتی، سماجی اور اعصابی عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جن کا حل صرف سخت سزاؤں میں نہیں بلکہ بہتر تعلیم، ذہنی صحت کی سہولیات اور جذباتی تربیت کے ذریعے دلوں میں ہمدردی کے دیپ جلانے میں ہے۔

کیونکہ جس معاشرے میں کمزور ترین انسان اور بے زبان حیوان محفوظ نہ ہوں اور جہاں اموات صرف چند سرخ سرخیاں بن کر رہ جائیں، وہاں انسانیت آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتی ہے اور پیچھے صرف سانس لیتے ہوئے مٹی کے بے جان پُتلے رہ جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *