ایرانی غیر منجمد اثاثے امریکی زرعی مصنوعات پر خرچ نہیں ہوں گے: باقر قالیباف

ایران کے پارلیمانی سپیکر اور امریکہ سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ایران اپنے غیر منجمد اثاثے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے پر خرچ کرے گا۔

انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا ہے کہ ’دلچسپ بات ہے کہ ہم دراصل وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو آپ نے بوئی یعنی دہائیوں پر محیط عدم اعتماد۔ یہ قدرتی، وافر اور مقامی پیداوار ہے جبکہ بظاہر امریکہ صرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم او) سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور فضول بیانات برآمد کرتا ہے۔‘

ایرانی مذاکرات کار باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت ایران کے جاری کیے گئے اربوں ڈالر بالآخر امریکی خوراک، خصوصاً مکئی، گندم اور سویا بین کی خریداری کے ذریعے واپس امریکہ آئیں گے۔

اسی تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ اگر ایرانی اثاثے غیر منجمد کیے گئے تو انہیں امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے غیر منجمد اثاثوں کا بڑا حصہ امریکی خوراک اور ادویات کی خریداری پر خرچ ہوگا۔

ایران کے اثاثوں پر ان امریکی بیانات کے رد میں باقر قالیباف کے حالیہ بیان سے قبل کئی دیگر ایرانی رہنما بھی اسی موقف کا اظہار کر چکے ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے سفیر علی بحرینی نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے تحت غیر منجمد کیے گئے اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ صرف ایران خود کرے گا  جب کہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ زرعی اجناس کی کسی بھی خریداری کا فیصلہ ’قیمت اور معیار‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ واشنگٹن کی عائد کردہ شرائط کے مطابق۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دلچسپ بات ہے کہ جنگ کا فلسفہ اور مقصد، جو ایرانی تہذیب کو تباہ کرنا اور ایران کو منہدم کرنا تھا، اب امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز کانگریس سے 87.6 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کی منظوری کی درخواست کی ہے، جس میں ایران جنگ کے اخراجات شامل ہیں۔

درخواست میں محکمہ دفاع کے لیے 21 ارب ڈالر اور محکمہ توانائی کے لیے 768 ملین ڈالر طلب کیے گئے ہیں جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین میں واضح کیا ہے کہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ پر خلیجی ممالک کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے منامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر نو کا معاملہ ابھی بہت دور کی بات ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *