اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے شدید لڑائی کے دوران چار فوجی مارے گئے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق فوج نے مرنے والوں میں سے ایک کی شناخت لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر کی اور کہا کہ باقی تین کی شناخت بعد میں ظاہر کی جائے گی۔
دوسری جانب لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 16 افراد جان سے گئے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششوں پر امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں جمعے کو طے شدہ مذاکرات تاخیر کا شکار ہو گئے ہیں۔
جنوبی لبنان پر اسرائیل کا قبضہ اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ پر اس کے مسلسل حملے ان مذاکرات میں ایک اہم مسئلہ رہے ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اسے اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے اور حزب اللہ سے لڑنے کے لیے اسے کھلی چھوٹ ملنی چاہیے کیوں کہ وہ شمالی اسرائیل پر حملے کرتی رہی ہے۔
مذاکرات کے التوا کی یہ خبر المیادین کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے، جو حزب اللہ کا سیاسی اتحادی پین عرب سیٹلائٹ چینل ہے، کہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی مہم کی وجہ سے ایران اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجنے میں تاخیر کر رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق دوسری جانب حزب اللہ نے جمعے کو کہا کہ اس کے عسکریت پسندوں نے تین اسرائیلی ٹینک تباہ کر دیے ہیں اور جھڑپیں جاری ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حزب اللہ کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے ’گائیڈڈ میزائلوں سے تین مرکاوہ ٹینکوں کو نشانہ بنایا، جس سے وہ تباہ ہو گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔‘
یہ ایسے وقت میں ہوا، جب اسرائیلی فورسز نے، ’جو ایک بکتر بند اور ایک انفنٹری پلاٹون پر مشتمل تھیں، علی الطاہر کی پہاڑیوں کے شمالی حصے کی طرف دراندازی کی (کوشش کی)‘ جو اہم قصبے نبطیہ کے سامنے واقع ایک سٹریٹیجک مقام ہے۔
علی الصبح جاری ہونے والے ایک بیان میں حزب اللہ کا کہنا تھا کہ ’جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔‘
حزب اللہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ’دشمن اسرائیلی فوج کی ایک ایسی فورس سے لڑ رہی ہے جس نے ارنون قصبے سے نبطیہ کے قریب کفر تبنیت کے مضافات کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی۔‘
