وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو مالی سال 2026-27 کا تین ہزار 562 ارب روپے حجم کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے، کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کرنے اور دو لاکھ 75 ہزار کم آمدنی والے گھرانوں کو مفت سولر ہوم سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ ‘بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مختلف شعبوں میں ٹیکس رعایتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔‘
ان کے بقول: ’بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 720.38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم ہیں۔‘
بجٹ تقریر میں وزیر اعلیٰ نے کراچی میں ’سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر‘ قائم کرنے، کیٹی بندر کو عالمی بحری و لاجسٹک مرکز بنانے اور قابلِ تجدید توانائی پر مبنی گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر کے قیام کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس
سندھ کابینہ نے نئے مالی سال 27-2026ء کے صوبائی بجٹ کی تجاویز کی منظوری دیدی
موجودہ مالی سال 25-2026ء میں ریکارڈ ترقیاتی کاموں پر وزیراعلیٰ سندھ کی کاوشوں کو سراہا گیا
پاکستان پیپلز پارٹی قیادت کی رہنمائی… pic.twitter.com/9UMBj0Havi— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 17, 2026
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو خطے کا مالیاتی، ٹیکنالوجی اور توانائی مرکز بنانے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
بجٹ کے تحت 18 ارب روپے کی لاگت سے دو لاکھ 75 ہزار غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کیے جائیں گے جبکہ متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔
صوبائی حکومت نے خصوصی گرانٹس کی مد میں 144 ارب 75 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو گذشتہ مالی سال کے 117 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
اس رقم سے این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی، پی پی ایچ آئی، انڈس ہسپتال اور دیگر فلاحی و طبی اداروں کی معاونت کی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سماجی تحفظ کے مختلف منصوبوں کے لیے 13.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں بے نظیر ہاری کارڈ، کچن گارڈننگ سکیم، بے نظیر ہاؤسنگ سیل اور بیواؤں و یتیموں کے امدادی پروگرام شامل ہیں۔
خصوصی افراد کے لیے معاون آلات، لینڈرز اور گوگل گلاسز کی فراہمی کے لیے ایک ارب 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
کراچی کے لیے مجموعی طور پر 100 ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہر میں ایئرپورٹ روڈ سے سٹار گیٹ تک نئے فلائی اوور، ملیر ہالٹ انڈر پاس، گجر نالہ فلائی اوور، شاہراہ بھٹو جنکشن اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 50 نئی ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 25 بسیں آئندہ تین ماہ کے دوران کراچی کی سڑکوں پر چلنا شروع کر دیں گی۔
اس کے علاوہ مزید 100 الیکٹرک بسیں بھی عوامی ٹرانسپورٹ نظام میں شامل کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت، زراعت، انفراسٹرکچر اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت تعمیرِ نو کا عمل بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
