الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا پر اپنے ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ (ایف ایس ڈی) نظام کے حفاظتی دعووں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور گمراہ کن اعدادوشمار استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق ٹیسلا نے یورپ میں اپنے خودکار ڈرائیونگ نظام کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سویڈن اور نیدرلینڈز کے ریگولیٹرز کو ایسے حفاظتی اعدادوشمار فراہم کیے جنہیں آزاد محققین نے گمراہ کن قرار دیا ہے۔
روئٹرز کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک اور کمپنی کے دیگر حکام بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ٹیسلا کا ایف ایس ڈی نظام انسانی ڈرائیورز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ محفوظ ہے۔
تاہم تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان دعووں کی بنیاد ایسے تقابلی اعدادوشمار پر رکھی گئی جو درست نہیں تھے اور جن سے نظام کی حفاظت کو حقیقت سے زیادہ مؤثر ظاہر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق انہی اعدادوشمار کو بعض یورپی ریگولیٹرز کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ ٹیسلا یورپ میں اپنے ایف ایس ڈی نظام کی وسیع منظوری حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ خطے میں اپنی کم ہوتی ہوئی مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کر سکے۔
کمپنی نے 2024 کے اواخر میں نیدرلینڈز کے روڈ ریگولیٹر آر ڈی ڈبلیو (RDW) کے ساتھ منظوری کا عمل شروع کیا تھا۔ نومبر 2024 میں ریگولیٹر کو بھیجے گئے ایک خط میں ٹیسلا نے اپنی حفاظتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایف ایس ڈی کا زیادہ استعمال سڑکوں کو محفوظ بناتا ہے۔
ٹیسلا اپنے ایف ایس ڈی نظام کے لیے ماہانہ سبسکرپشن فیس وصول کرتی ہے۔ یہ نظام بعض حالات میں گاڑی خود چلا سکتا ہے، تاہم ڈرائیور کو مسلسل توجہ برقرار رکھنا ضروری ہوتی ہے۔
ایک سال سے زیادہ عرصے تک آزمائش اور مذاکرات کے بعد نیدرلینڈز کے ریگولیٹر نے رواں برس اپریل میں ایف ایس ڈی کے استعمال کی منظوری دے دی۔ اب یہی ادارہ یورپی یونین بھر میں اس نظام کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم آر ڈی ڈبلیو نے رائٹرز کی نشاندہی کردہ خامیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلوں کے لیے مارکیٹنگ دعووں یا بیرونی اعدادوشمار پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنے ٹیسٹ، تجزیے اور تصدیقی عمل انجام دیتا ہے۔
ٹیسلا نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
روئٹرز کے مطابق اپریل میں نیدرلینڈز کی منظوری کے فوراً بعد ٹیسلا کے پالیسی مینیجر ایوان کوموساناک نے سویڈش حکام کو ایک ای میل ارسال کی جس میں کہا گیا تھا کہ ایف ایس ڈی استعمال کرنے والی ٹیسلا گاڑیاں اوسط امریکی ڈرائیور کے مقابلے میں حادثات کے درمیان سات گنا زیادہ فاصلہ طے کرتی ہیں۔
پیش کردہ سلائیڈز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر ایف ایس ڈی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی تو ممکنہ طور پر 32 ہزار جانیں بچائی جا سکتی تھیں اور 19 لاکھ زخمیوں سے بچاؤ ممکن تھا۔
تاہم محققین کے مطابق یہ اندازے غیر حقیقی مفروضوں پر مبنی ہیں، جن میں فرض کیا گیا کہ امریکہ کی تمام گاڑیاں، بشمول ٹرک اور موٹر سائیکلیں، ایف ایس ڈی سے لیس ٹیسلا گاڑیوں سے تبدیل کر دی جائیں گی اور ہر ٹیسلا موجودہ گاڑی سے کم از کم سات گنا زیادہ محفوظ ہوگی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیسلا نے حادثات کے تقابل میں ایسے اعدادوشمار استعمال کیے جن میں ایئر بیگ کھلنے والے سنگین حادثات کا موازنہ امریکہ کے تمام درجے کے حادثات سے کیا گیا، جس سے حفاظت کی شرح حقیقت سے زیادہ نظر آتی ہے۔
اس کے علاوہ کمپنی اپنی نئی گاڑیوں کا موازنہ امریکی سڑکوں پر موجود اوسط گاڑیوں سے کرتی ہے، جو عموماً زیادہ پرانی ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید گاڑیوں میں پہلے ہی کئی حفاظتی خصوصیات شامل ہوتی ہیں، اس لیے ایسا تقابل نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔
سویڈن کے ٹرانسپورٹ ادارے کے اہلکار اینڈرز ایرکسن نے کہا کہ ریگولیٹرز صرف نمایاں اعدادوشمار پر انحصار نہیں کرتے بلکہ تمام شواہد کا جائزہ لیتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یورپی ٹرانسپورٹ سیفٹی کونسل کے ترجمان ڈڈلی کرٹس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر واقعی غیر معتبر امریکی اعدادوشمار ریگولیٹرز کو پیش کیے گئے ہیں تو یہ تشویش کی بات ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹیسلا اپنے حفاظتی دعووں کو معتبر بنانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اعدادوشمار آزاد محققین اور جامعات سے جانچ کروانی چاہیے۔
ٹیسلا کے لیے یورپ میں ایف ایس ڈی کی منظوری خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کمپنی گذشتہ برس ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیوں، خصوصاً یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کے بعد ہونے والے احتجاج اور فروخت میں کمی کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یورپی یونین بھر میں ایف ایس ڈی کی منظوری کے لیے رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت درکار ہوگی، تاہم اس دوران انفرادی ممالک اپنی سطح پر بھی اس ٹیکنالوجی کی منظوری دے سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یونان نے بھی ایف ایس ڈی کی منظوری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ ناروے سمیت مختلف ممالک کے ریگولیٹرز کو ٹیسلا کے حامی ڈرائیورز کی جانب سے منظوری کے حق میں خطوط موصول ہوئے ہیں۔
تاہم ناروے کی پبلک روڈز ایڈمنسٹریشن کے اہلکار اسٹین ہیلگے منڈال نے جواب میں کہا کہ ٹیسلا کے پیش کردہ اعدادوشمار کمپنی کے اپنے تیار کردہ ہیں، اس لیے انہیں سرکاری حادثاتی اعدادوشمار کے ساتھ براہِ راست ملانا مشکل ہے۔

