وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے 35 مطالبات میں سے 32 پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ تین مطالبات ابھی زیر التوا ہیں جن میں سے ایک معاملہ 12 نشستوں سے متعلق ہے، جس پر مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی وزرا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر بھی مذاکراتی عمل میں شامل رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسئلے گفتگو کے راستے سے نکلنا ہے لیکن کالعدم تنظیم کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور اگر بلواسطہ اس معاملے کو سلجھا سکیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے تجویز دی ہے کہ معاملے کو آل پارٹیز کانفرنس، سپریم کورٹ ریفرنس یا اسمبلی کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کلعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی اپیل کی ہے کہ احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جان سے گئے، جو افسوس ناک ہے۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور بات چیت میں ہے جبکہ تشدد سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کشمیر میں متعدد میگا پروجیکٹس، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مالی معاملات اور مراعات پر حکومت نے اہم فیصلے کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت متاثرین کے لیے الاٹمنٹس، بجلی کے بلوں کی معافی اور دیگر مطالبات پر بھی پیش رفت کی گئی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کابینہ کا حجم 36 سے کم کر کے 20 کر دیا گیا ہے جبکہ وزارتوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم کی گئی ہے، جو معاہدے کا حصہ تھا۔
