ایرانی فٹ بال ٹیم کے کوچ امیر قلعہ نویی نے اتوار کو کہا کہ سیاسی تناؤ اور ویزے کے مسائل نے ورلڈ کپ کے لیے ان کی ٹیم کی تیاریوں کو نقصان ضرور پہنچایا، لیکن ان کے کھلاڑی مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
مہینوں سے ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں شامل امریکہ کی جانب سے ٹیم کے کچھ معاون عملے کو ویزے جاری کرنے سے انکار کے بعد ایران ایک تلخ سفارتی تنازعے کے ماحول میں ٹورنامنٹ کھیلنے پہنچا ہے۔
ایران پیر کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ورلڈ کپ کے میزبان نے ایک ایسے ملک کی میزبانی کی ہو جس کے ساتھ اس کی جنگ چل رہی ہو۔
اتوار کو رات گئے ٹریننگ کے لیے پولیس کی حفاظت میں آنے والی ایران کی ٹیم بس کا سامنا حکومت مخالف مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ سے ہوا۔
ملک کی سخت گیر حکومت کی مخالفت کرنے والے تارکین وطن ایرانیوں نے سٹیڈیم کے باہر بڑے مظاہروں کی منصوبہ بندی کی ہے اور ایسی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں کہ اگر حکومت مخالف بینرز لہرائے گئے تو ایرانی ٹیم گراؤنڈ سے باہر جا سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں قلعہ نویی نے پریس کانفرنس میں کہا ’ہم یہاں ایک اچھا اور اعلیٰ معیار کا میچ کھیلنے آئے ہیں۔ ہم کسی بھی شوروغوغا اور اپنے اردگرد ہونے والے کسی بھی واقعے پر توجہ نہیں دیتے۔
’فطری طور پر تمام ٹیموں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں اور بہت سے ممالک میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کا فٹ بال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘
کوچ نے کہا کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ میں محض ’ایران کے معزز لوگوں کی نمائندگی کرنے آئی ہے، چاہے وہ ایران کے اندر رہنے والے ایرانی ہوں یا تارکین وطن۔‘
قلعہ نویی کا کہنا تھا ’ہم سیاسی لوگ نہیں ہیں۔ فٹ بال سیاست سے الگ ہے۔‘
یہ پریس کانفرنس امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے بمشکل ایک گھنٹے بعد ہوئی، جس نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا ’فوری اور مستقل‘ خاتمہ کر دیا۔
ایرانی ٹیم کے گرد گھومنے والے تنازعے نے شہ سرخیوں میں جگہ بنائی لیکن یہ قطعی طور پر واحد سیاسی مسئلہ نہیں جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ورلڈ کپ کو متاثر کر رہا ہے۔
صومالیہ کے ریفری عمر ارتان کو ورلڈ کپ کے لیے امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا، جس طرح بہت سے شائقین کو روکا گیا۔
سٹار سٹرائیکر مہدی طارمی نے کہا ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس سے صرف ایران ہی متاثر نہیں ہوا۔‘
انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے اردگرد موجود تناؤ ’اس خوشی کو کم کرتا ہے اور یہ فیفا یا لوگوں کے اس پیغام کو کمزور کرتا ہے، جو فٹ بال کے بارے میں ہے کہ یہ امن لاتا ہے۔‘
’میں نے اس ورلڈ کپ میں پہنچنے کے پہلے لمحے سے ہی تناؤ محسوس کیا ہے اور جب بھی کسی ٹورنامنٹ میں تناؤ ہوتا ہے تو ظاہر ہے ہمیں وہ خوبصورت تجربہ حاصل نہیں ہوتا جس کے بارے میں ہم ہمیشہ بات کرتے ہیں، یعنی ہر ملک کے لوگوں کے لیے امن اور خوشی۔‘
ابتدائی طور پر ایران کو اپنا ٹریننگ کیمپ امریکہ میں لگانا تھا لیکن آخری وقت میں اسے میکسیکو کے شہر تیجوانا منتقل کر دیا گیا۔
قلعہ نویی نے کہا ان کی ٹیم کو ’خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے کافی وقت نہیں ملا۔ یہ ہمیں متاثر کرے گا لیکن ان شاء اللہ میں جانتا ہوں کہ میرے کھلاڑی اپنی پوری کوشش کرنے اور اعلیٰ ترین معیار دکھانے کے لیے بہت پرعزم ہیں۔‘
کوچ نے مزید کہا ’ہمارا کیمپ دو بار تبدیل کیا گیا، پہلے یہ امریکہ میں تھا، پھر ہمیں میکسیکو منتقل کر دیا گیا اور یقیناً اس کا ہم پر اثر پڑتا ہے۔‘
’لیکن ہم ایرانی مشکلات سے مواقع پیدا کرتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کبھی بھی ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔
ان کے گروپ جی میں بیلجیم اور مصر بھی شامل ہیں۔
لاس اینجلس کے قریب کارسن میں ٹریننگ سیشن کے باہر تقریباً 25 مظاہرین جمع ہوئے، جو نعرے لگا رہے تھے کہ یہ ٹیم ان کے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔
لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی 47 سالہ ستگین جلالی نے کہا ’ہم میں سے کچھ (کل) سٹیڈیم کے اندر ہوں گے۔ ہمارے پاس آپ کے لیے بہت سے سرپرائز ہیں۔‘
اورنج کاؤنٹی کے ایک 51 سالہ ڈاکٹر صورت دارابی نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ’یہ ٹیم ایران کے لوگوں سے تعلق نہیں رکھتی۔
’ہم یہاں ایران کے لوگوں کی آواز بن کر آئے ہیں کیوں کہ ان کی کوئی آواز نہیں ہے۔ (حکومت نے) انٹرنیٹ بند کر دیا ہے اور اگر وہ باہر نکل کر احتجاج کرتے ہیں تو وہ انہیں مار دیتے ہیں، ان کا قتل عام کرتے ہیں۔‘
