اسرائیل کا بیروت کے جنوبی مضافات میں الضاحية پر حملہ

اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں الضاحية پر حملہ کیا ہے جسے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کنفرم کرتے ہوئے بتایا کہ مذکور علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

دوسری جانب لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا ہے کہ بیروت کے جنوبی علاقے غبيري میں بھی ایک حملہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہے اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں یہ حملے کیے ہیں۔

یہ حملے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اس اعلان کے ایک روز بعد ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران نے ایک معاہدے کے الفاظ پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد اپنی جنگ کو ختم کرنا ہے، اور یہ کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جبکہ گذشتہ روز ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے اور آبنائے ہرمز کے کھول دیے جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس سے قبل لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان میں صور، نبطیہ کے قریب واقع جزین کے علاقے ریحان اور سجود سمیت متعدد دیہات کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ریحان میں ایک حملے میں وہاں کے میئر علی بادی کی موت واقع ہو گئی ہے۔ 

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق نبطیہ شہر تقریباً خالی ہو چکا ہے، جبکہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں رات بھر اور ہفتے کے روز بھی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

ایک روز قبل بھی علی طاہر کی پہاڑیوں کے اطراف دھماکوں اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل گذشتہ ماہ دریائے زہرانی کے جنوب کے تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دے چکا ہے اور اس کے بعد سے وہاں شدید حملے جاری ہیں۔

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے میں لبنان کا معاملہ بھی شامل ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اب تک 3700 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

ادھر حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور حالیہ مشروط معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس میں حزب اللہ کے حملے روکنے کی شرط تو شامل ہے، لیکن اسرائیلی فوج کے انخلا یا اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *