عمان کی دقم بندرگاہ پر لنگر انداز ایک ٹینکر پر موجود 35 سالہ انڈین ملاح نِشانت اُرتھاناتھن کی طبی پیچیدگیوں کے باعث موت واقع ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مسقط میں انڈین سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’ایم ٹی سیلیسٹیئل نامی بحری جہاز پر موجود ایک انڈین شہری کی طبی پیچیدگیوں کے باعث موت واقع ہوئی، جب جہاز عمان کی دقم بندرگاہ پر کھڑا تھا۔‘
رپورٹ کے مطابق نِشانت اُرتھاناتھن، جن کا انتقال 11 جون کو ہوا تھا، کی میت دو روز سے زائد عرصے تک جہاز پر مناسب ریفریجریشن کے بغیر موجود رہی۔
فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ عملہ میت کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈے پانی کی بوتلوں کا استعمال کر رہا تھا تاکہ گلنے سڑنے کے عمل کو سست کیا جا سکے، جس سے صحت کے خطرات بھی پیدا ہو رہے تھے۔
سفارت خانے کے مطابق متوفی کی میت جلد انڈیا منتقل کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل عمان کے قریب ایک ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاح جان سے گئے تھے، جس پر انڈیا میں عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رواں ہفتے گروپ آف سیون (جی 7) اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں۔
جمعے کو انڈیا نے ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے دوران شہری بحری جہازوں پر حملوں کے معاملے پر امریکہ کے سامنے ایک بار پھر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے شہری جہاز رانی کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال پر اپنی ’گہری تشویش‘ سے آگاہ کیا گیا۔
انڈیا کے 3 لاکھ سے زائد ملاح دنیا بھر کے تجارتی بحری بیڑوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ 18 ہزار سے زیادہ انڈین ملاح مشرقِ وسطیٰ میں ملازمت کر رہے ہیں۔
