ترقی پذیر ملک چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

آج کے چین کو سمجھنے کے لیے پرانے چین کو دیکھنا ہو گا۔ کسی بھی دوسری قوم کی طرح چین کے لوگ بھی عروج و زوال کے ادوار سے گزرے ہیں۔ 

ایک قدیم تہذیب کے وارث، چینی اپنے ماضی پر فخر کرتے ہیں۔ ان کے پیشروؤں نے کاغذ، بارود اور کَمپس ایجاد کیے۔

ان کے کاری گروں نے جیڈ نقش و نگار، خطاطی اور چینی مٹی کے برتن بنانے میں مہارت حاصل کی اور ان کی فلسفیانہ جڑیں کنفیوشسزم میں پنہاں ہیں جو سماجی ہم آہنگی کو اہمیت دیتا ہے۔

اس کے تمام حکمران خاندانوں اور شہنشاہوں میں سے چن شی ہوانگ (246 – 221) نمایاں ہیں جنہوں نے متحارب قبائل کو ایک چینی ریاست میں متحد کیا اور تحریری نظام کو معیاری بنایا۔

19ویں صدی کے وسط میں چین دو افیون جنگوں سے گزرا کیوں کہ برطانوی چینی چائے کی ادائیگی کے لیے افیون کی سمگلنگ کرتے تھے۔

ان جنگوں کو ہارنے کے بعد چین کے لوگ 1839 سے 1949 تک ذلت کی ایک صدی میں داخل ہوئے، جس میں جاپان کا قبضہ اور خانہ جنگی شامل تھیں۔

1949 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے ماؤ زی تنگ کی قیادت میں خانہ جنگی کا خاتمہ کیا اور عوامی جمہوریہ چین قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

ابتدائی سال ہنگامہ خیز تھے۔ دی گریٹ لیپ فارورڈ (1958-1962) نے زمین کی دوبارہ تقسیم، کوآپریٹو فارمنگ، کمیون اور بھاری صنعت پر زور دے کر چین کو زرعی معاشرے سے ایک صنعتی ملک میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

 یہ پروگرام ایک بڑے قحط کے ساتھ ختم ہو گیا۔ 1966 میں ماؤ نے ثقافتی انقلاب کا آغاز کیا، معاشرے کو پرانے رسم و رواج، ثقافت، عادات اور خیالات سے نجات دلانے کے لیے ریڈ گارڈز کا استعمال کیا۔

اگرچہ تجربہ بڑی حد تک ناکام رہا لیکن کچھ مثبت فوائد بھی حاصل ہوئے۔ عوامی تعلیمی نظام قائم کیا گیا اور خواتین کے حقوق کو بڑھایا گیا۔

چین کی معاشی قسمت اس وقت بدلنا شروع ہوئی جب 1978 میں ڈینگ ژیاؤپنگ نے اقتدار سنبھالا اور چینی معیشت کو اس کے مرکزی منصوبہ بندی ماڈل سے معاشی لبرلائزیشن کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا۔ 

’چینی خصوصیات کے ساتھ سوشلزم‘ کہلائے جانے والے ان  اصلاحاتی اقدامات نے زراعت کو غیر اجتماعی بنایا۔ ٹاؤن شپ اور ولیج انٹرپرائزز نامی پروگرام کے ذریعے بڑے کوآپریٹیو قائم کیے گئے۔

خصوصی اقتصادی زون بنائے اور ٹیرف رعایتوں اور لیبر ڈی ریگولیشن کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کو راغب کیا گیے۔ 2001 تک، جب چین نے ڈبلیو ٹی او میں شمولیت اختیار کی، یہ صنعت سازی کا ایک بڑا نام، اہم برآمد کنندہ اور عالمی سپلائی چین کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا۔

2013 میں چین کے ساتویں صدر کے طور پر شی جن پنگ کی آمد کے بعد چین اپنی قومی زندگی کے ایک ’نئے دور‘ میں داخل ہو گیا، جس میں قومی تجدید کو نصب العین بنا دیا گیا اور ملک کی معیشت بنیادی ڈھانچے اور برآمدات پر منحصر اقتصادی ترقی کے ساتھ ٹیکنالوجی کی خود انحصاری اور گھریلو صارفین کی طرف منتقل ہو گئی۔

 1978 کے بعد سے گذشتہ 48 سالوں میں چین کی جی ڈی پی تقریباً 140 گنا اور فی کس آمدنی 96 گنا بڑھی۔

اس زبردست تبدیلی کو منظم کرنے کے لیے نیشنل پیپلز کانگریس کا ایک وسیع نظام نچلی سطح تک ترتیب دیا گیا۔ شہریوں کو بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔

 تقریباً 80 کروڑ چینیوں کو انتہائی غربت سے نکالا جا چکا ہے۔ چین کی خارجہ پالیسی کو ملک کے اثر و رسوخ اور اقتصادی اثرات کو بڑھانے کی جانب موڑا گیا ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پروگرام میں دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک شامل ہو گئے ہیں۔

عسکری میدان میں پیپلز لبریشن آرمی نے خود کو تکنیکی طور پر ایک جدید اور انتہائی چست فورس کے طور پر جدید بنایا ہے، جس کا مقصد 2049 تک عالمی معیار کی فوج بننا ہے۔

چین کے تجربے سے ترقی پذیر قومیں کیا سبق سیکھ سکتی ہیں؟

پہلی بات یہ کہ چین کی کامیابی چین کو ایک پڑھا لکھا ملک بنانے کی مسلسل مہم کی مرہون منت ہے۔

ماؤ زے تنگ نے بڑے پیمانے پر خواندگی کی مہم چلائی اور تعلیم کو پیداوار سے جوڑ دیا۔

ڈینگ ژیاؤپنگ نے نو سالہ لازمی تعلیمی نظام متعارف کرایا اور میرٹ کو اعلیٰ تعلیم کی بنیاد بنایا۔

اس طرح چین کا انسانی وسائل ملک کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کا پہیہ چلانے کے لیے تیار ہو گیا۔

1949 میں چین کی شرح خواندگی 20 فیصد تھی جو آج بڑھ کر 97 فیصد ہو گئی ہے۔ ہر چینی حکومت نے ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً چار فیصد تعلیم پر خرچ کیا۔

دوسرا، چین کی ترقی کوئی حسن اتفاق نہیں تھا۔ اس نے ایک ترتیب وار طریقے سے ترقی کی۔ پہلی ترجیح انجینیئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی اور ریاضی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر خواندگی کی مہم کے ذریعے قوم کو تعلیم یافتہ بنانا تھا۔

اس سے قوم کی اوسط مہارت میں اضافہ ہوا۔ سپیشل اکنامک زونز اور ایف ڈی آئی صرف اس وقت آئے جب قوم تعلیم یافتہ اور اتنی ہنر مند تھی کہ سرمایہ کاری کو جذب کر سکے۔

تیسرا، چین کی پوری قومی زندگی ملک کے لیے واضح طور پر بیان کردہ وژن کے گرد گھومتی ہے۔

مثال کے طور پر ژی جن پنگ نے 2012 میں اپنا ’چائنا ڈریم‘ وضع کیا جو چینی قوم کی تجدید کرنے اور اسے 2049 تک خوشحال، تکنیکی طور پر ترقی یافتہ اور غالب طاقت بنانے کا ایک آرزو مند ہدف ہے۔

چینی فوج کو ایک اعلیٰ درجے کی ملٹری مشین میں اپ گریڈ کرنا، بدعنوانی کو روکنا، معیار زندگی کو بہتر بنانا اور چین کو آلودگی سے پاک کرنا اسی وژن کا حصہ ہے۔

چوتھا، چین کی منصوبہ بندی کا عمل حیرت انگیز طور پر متحرک ہے، جو ملک کے بدلتے حالات اور ضروریات کے مطابق ہے۔

اس کے چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) نے گھریلو کھپت اور مقامی اختراعات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی تھی تاکہ بیرونی عوامل چین کی ترقی  کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

اے آئی، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور گرین ٹیکنالوجیز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

 پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) ’اعلیٰ معیار کی ترقی‘ کو آگے بڑھانے کی کوشش اور برآمدات اور وسائل پر منحصر جی ڈی پی کی توسیع سے ہٹ کر معیشت کے پائیدار اور جدت پر مبنی ماڈل کی طرف تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔

 صنعتی شعبے کا مقصد ماحول دوست توانائی کی طرف بڑھنا ہے جیسے الیکٹرک گاڑیاں (چین پہلے ہی اس میں دنیا بھر میں سبقت لے چکا ہے) اور شمسی توانائی سے وابستہ مواد (چین دنیا کی 75 فیصد لیتھیم آئن بیٹریاں تیار کرتا ہے)۔

اس تکنیکی خود انحصاری کا مقصد غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کرنا ہے۔

پانچواں نکتہ یہ ہے کہ سیاسی استحکام کی وجہ سے ترقی کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔

سی پی سی پیپلز کانگریس کا نیٹ ورک استحکام فراہم کرنے، قومی تجدید پر توجہ مرکوز رکھنے اور متفقہ پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ کے لیے فولادی فریم کا کام کرتا ہے۔

جو بھی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب پایا جائے اس کا بے رحمانہ احتساب ہوتا ہے۔

اگرچہ چینی تجربہ منفرد ہے، اس کی اپنی تاریخ اور ثقافت میں جڑیں ہیں، تاہم مندرجہ بالا اسباق پاکستان سمیت بیشتر ترقی پذیر ممالک کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پاکستانی پالیسی سازوں کو قومی ترجیحات کو از سر نو ترتیب دیتے ہوئے خواندگی کی شرح بڑھانے کا پختہ عزم کرنا چاہیے۔

ہمارے تعلیمی نظام کو ملک کے انسانی وسائل کی مہارت بڑھانے کی طرف موڑنا چاہیے۔

خواندگی کی بلند شرحوں اور ہمارے لوگوں کی مہارتوں کی بنیاد میں اضافہ کیے بغیر تیز رفتار اقتصادی ترقی کی خواہش کرنا گاڑی کو گھوڑے کے آگے رکھنے کے مترادف ہے۔

 ہمیں اپنے وژن یا قومی مقصد کو مزید واضح طور پر بیان کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ بحث کر سکتی ہے اور شہری فلاح اور بہبود پر مبنی قومی مقصد بنا سکتی ہے۔

ہماری منصوبہ بندی کا عمل عمومی طور پر اچھا ہے لیکن عمل درآمد غیر موثر ہے۔

چینی تجربہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح درست ترجیحات کا تعین مختصر وقت میں متاثر کن سماجی و اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *