وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد کاروباری برادری نے کہا ہے کہ برآمدات اور صنعت، دونوں کے لیے اس بجٹ میں کوئی خوشخبری نہیں ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے بجٹ میں صنعتوں، برآمدات اور توانائی کے شعبے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کراچی میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین نے کہا کہ اکنامک سروے میں پیش کیے گئے بعض سرکاری اعدادوشمار پر کاروباری برادری کو تحفظات ہیں، جبکہ بجٹ میں برآمدی شعبے کے فروغ کے لیے کوئی نمایاں پالیسی یا عملی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا: ’پاکستان کو معیشت چلانے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا، لیکن بجٹ میں صنعتوں اور برآمدی شعبے کی ترقی کے لیے کوئی واضح پروگرام پیش نہیں کیا گیا۔‘
’لائن لاسز کا بوجھ صنعتوں پر ڈالا جا رہا ہے‘
زبیر موتی والا نے توانائی کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نظام میں موجود نقصانات کا بوجھ مسلسل صنعتوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ان کے بقول: ’بجلی کے نظام میں 47 فیصد تک لائن لاسز موجود ہیں، لیکن بجٹ میں اس مسئلے کے حل یا صنعتی صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔‘
تاہم انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ریلیف، تعمیراتی شعبے کے لیے بعض مراعات اور زراعت سے متعلق چند اقدامات کو مثبت قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اگرچہ محصولات کے اہداف مقرر کر دیے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کس نوعیت کے اصلاحاتی اقدامات کرے گا۔
’صنعتیں چلیں گی تو معیشت چلے گی‘
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر جاوید بلوانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ میں صنعتوں اور برآمدی شعبے کو وہ سہولتیں نہیں دی گئیں جن کی معیشت کو اس وقت ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: ’ملک کی معیشت کا پہیہ صنعتوں سے چلتا ہے۔ اگر صنعتیں فعال ہوں تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، برآمدات بڑھتی ہیں، صارفین کو نسبتاً سستی مصنوعات ملتی ہیں اور حکومت کے مالی بوجھ میں بھی کمی آتی ہے۔‘
ان کے مطابق حکومت نے منیمم ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں کو نقصان کی صورت میں بھی ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جاوید بلوانی نے کہا کہ بجٹ میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی یا صنعتی توانائی کے اخراجات کم کرنے کے حوالے سے کوئی نمایاں اعلان نہیں کیا گیا۔
’پاکستان میں صنعتی صارفین کے لیے گیس کے نرخ پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اگر پیداواری لاگت کم نہیں ہو گی تو صنعتیں عالمی منڈی میں مسابقت نہیں کر سکیں گی۔‘
’صنعت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے‘
جاوید بلوانی کے مطابق اگر حکومت واقعی پائیدار معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے صنعتوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی۔
انہوں نے کہا: ’صنعتی سرگرمیوں میں اضافے سے روزگار پیدا ہو گا، برآمدات بڑھیں گی اور حکومت پر کیپیسٹی پیمنٹس سمیت دیگر مالی بوجھ بھی کم ہو گا۔‘
کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں محصولات کے اہداف تو مقرر کیے گئے ہیں، تاہم معیشت کی طویل المدتی ترقی کے لیے صنعتوں، برآمدات اور توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے۔
