’منی کلیان‘ وہ ہندوستانی فلسفی جس نے سکندر اعظم کی کایا پلٹ دی

 یہ 326 قبل مسیح ہے۔ اس برس ٹیکسلا میں ایک اور طرح کا موسمِ بہار آیا ہوا ہے۔ سکندر مقدونی دنیا فتح کرتا ہوا راجہ امبھی کا مہمان خاص بن کر مارگلہ کے دامن میں خیمہ زن ہے۔

ہند کے حوالے سے اسے داستان گو نے اتنی جادوئی کہانیاں سنا رکھی ہیں کہ اسے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے سے زیادہ دلچسپی ان سادھوؤں سے ملاقات میں ہے، ان کا فلسفۂ حیات سننے میں ہے اور اس بوٹی کو چکھنے میں ہے جس سے انسان کو حیاتِ جاوداں مل جاتی ہے۔

راجہ امبھی پر اپنے مہمان کی یہ کمزوری جب عیاں ہوتی ہے تو وہ اپنے دربانوں کو حکم دیتا ہے کہ مارگلہ کے دوسری طرف ’اُچا نگر‘ جائیں اور منی کلیان کو دربار میں بلائیں حالاں کہ راجہ امبھی یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ منی کلیان کبھی اس کے دربار میں حاضر نہیں ہو گا۔

جب دربان نامراد لوٹتے ہیں تو سکندر اپنے مشیرِ خاص اوسنیکریٹس کو منی کلیان کے پاس بھیجتا ہے۔ منی کلیان کہتا ہے کہ وہ صرف ایسے لوگوں سے ملتا ہے جو اس کی طرح سادھوؤں کا لباس پہنتے ہیں۔ جا کر اپنے بادشاہ سے کہہ دو فقیروں کا بادشاہ سے کیا لینا دینا۔

اوسنیکریٹس بھی آخر سکندر کا مشیرِ خاص اور یونانی فلسفی ہے وہ منی کلیان کی باتوں کو سمجھتا ہے آداب بجا لاتا ہے اور واپس ٹیکسلا جا کر سکندر کو صورت حال سے آگاہ کرتا ہے۔

آخر فاتح عالم سکندر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خود منی کلیان کے پاس جائے گا۔ سکندر ٹیکسلا سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور مارگلہ سے گزرتا ہوا 23 میل کے فاصلے پر ’اُچا نگر‘ پہنچتا ہے۔

یہ جین مت کے سادھوؤں کی ایک خانقاہ ہے۔ اس کی فضا میں عجیب سی پراسراریت ہے۔ یہاں ہر بندہ نیم برہنہ نظر آتا ہے جو دنیا و مافیا سے بے نیاز اپنی عبادات میں مشغول ہیں۔ سکندر مقدونی نے یونان سے باختر تک ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا تھا۔ سکندر گھوڑے سے اترتا ہے منی کلیان کے حضور آداب بجا لاتا ہے۔

سکند مقدونی: ہمیں کوئی نصیحت کریں

منی کلیان: حقیقی خوشی چاہتے ہو تو دنیا کی بجائے اپنے اندر کو فتح کرو۔

سکندر مقدونی: اندر کیسے فتح ہوتا ہے؟

منی کلیان: اس کے لیے تمہیں اتنی خواہشات نہیں مارنی پڑیں گی جتنے تم اب تک سپاہی مار چکے ہو لیکن یاد رکھو ایک خواہش کو مارنا ایک لاکھ سپاہی مارنے سے مشکل ہے۔

سکندر مقدونی: میں یہ سب کرنا چاہتا ہوں لیکن کیسے کروں اس کے لیے راستہ بھی آپ دکھائیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ میرے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جائیں؟

منی کلیان : ہمارے لیے یونان اور اُچا نگر ایک ہی ہیں کیوں کہ خدا سب جگہ موجود ہے۔ میں تمہارے ساتھ چل پڑوں گا لیکن تمہیں بھی خدا کی آواز سننی ہو گی۔

یوں سکندر منی کلیان کو پہلے اپنے ساتھ ٹیکسلا لاتا ہے اور پھر وہ جہلم کی مہم پر نکل جاتے ہیں۔ منی کلیان اس کو منع کرتا ہے کہ تمہارے لیے اب دنیا کی فتح کا باب بند اور ابدیت کا کھل چکا ہے اس لیے آگے مت جاؤ۔

منی کلیان کون تھا اور سکندر اس سے کیوں ملنا چاہتا تھا؟

ٹیکسلا سے 23 میل پر موجودہ راولپنڈی شہر واقع ہے۔ اس لیے 2352 سال پہلے منی کلیان کی خانقاہ یہیں کہیں پر تھی، جسے اس زمانے میں ’اُچا نگر‘ کہا جاتا تھا۔

ہندو ماہرین منی کلیان کو برہمن گردانتے ہیں لیکن جین مت کے قدیم نسخوں میں اسے جین مت کا پیروکار کہا گیا ہے۔

منی کلیان کو سفینز کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یونانی مؤرخین نے اسے کالانوس (Kalanos) لکھا ہے جو ترکِ دنیا کی مشقیں کرتے کرتے نامور صوفی بن چکا تھا۔

وہ نیم برہنہ حالت میں ہر وقت مراقبے میں مشغول رہتا۔ دور دراز سے لوگ اس کے پاس حاضری دینے کے آتے اور اپنی مناجات پاتے۔ اس دور کے پنجاب میں یہ صوفی سلسلہ ایک بڑی روایت کے ساتھ اپنے جوبن پر تھا۔

یہ لوگ موت کو زندگی کے خاتمے سے نہیں بلکہ ایک جہان سے دوسرے جہان منتقلی سے تعبیر کرتے تھے۔ نفس کشی کے لیے یہ برہنہ رہتے، موسموں اور خوہشات کے خلاف لڑتے رہتے۔

کم سے کم خوراک کھاتے اتنی کم کہ ان کی ہڈیاں باہر نکلی ہوئی ہوتیں۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر پہلی ملاقات میں ہی منی کلیان کی دانش و حکمت کا قائل ہو گیا تھا اور اس نے اسے اپنے ساتھ یونان جانے پر راضی کر لیا تھا۔

سکندر ارسطو کا شاگرد تھا اور اسے ہمیشہ مختلف علوم و فنون اور فلسفوں میں خاصی دلچسپی تھی۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ منی کلیان کو یونانی فلسفیوں اور حکیموں سے بھی روشناس کروایا جائے تاکہ یونانی یہ جان سکیں کہ دنیا کے باقی حصوں میں فکر فلسفہ کس سطح پر ہے۔

 سکندر کی موت کی پیش گوئی جو پوری ہوئی

جہلم میں راجہ پورس کے ساتھ تاریخی معرکے کے بعد سکندر کو اپنی مہم ترک کر کے واپس جانا پڑا تو منی کلیان بھی اس کے ساتھ تھا۔ یہ سفرشدید مشکلات کا شکار رہا جس میں سکندر کی فوجوں کو بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

کہتے ہیں کہ سکندر جب فارس پہنچا تو منی کلیان جس کی عمر 70 سال سے زائد تھی اس کی صحت خراب ہو گئی۔

اب وہ اپنی عبادات اور مراقبے بھی نہیں کر سکتا تھا، اس لیے منی کلیان نے سکندر سے کہا کہ اس کی واپسی کا وقت آ چکا ہے وہ چاہتا ہے کہ اس کے لیے آگ کا ایک الاؤ روشن کیا جائے تاکہ وہ اس میں وہ داخل ہو کر موجودہ دنیا سے رخصت ہو کر اگلی دنیا میں داخل ہو سکے۔

سکندر یہ نہیں چاہتا تھا لیکن منی کلیان کی خواہش کے آگے اس نے سرِ تسلیم خم کیا اور آگ جلا دی گئی۔ سکندر کے فوجی اور درباری اکٹھے ہوئے۔ منی کلیان نے دعا کی اور تمام حاضرین کو کچھ نصیحتیں کیں۔ سکندر سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ جلد ہی بابل میں اس سے ملے گا۔ یہ کہہ کر وہ  پرسکون انداز میں چلتا ہوا آگ  کے شعلوں میں غائب ہو گیا۔

 منی کلیان نے چتا میں جاتے ہوئے جب سکندر سے کہا کہ وہ جلد ہی ان سے بابل میں ملے گا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ فاتح عالم بھی اب کچھ ہی مہینوں کا مہمان رہ گیا ہے۔

حالانکہ اس وقت اس کی عمر صرف 31 سال تھی وہ بھرپور جوان تھا۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ سکندر چند ماہ بعد ہی بیمار ہو کر بستر سے جا لگا۔ کسی حکیم کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ فاتحِ عالم کو اچانک کون سی بیماری لگ گئی ہے کہ جس پر کوئی دوائی کارگر نہیں ہو رہی۔

وہ روز بروز کمزور ہوتا گیا حتیٰ کہ ایک دن اس کی زبان بھی بند ہو گئی۔ اس کا بستر بابل کے محل میں رکھا گیا، اس کے درباریوں اور فوجی جرنیلوں کو اس کا دیدار کرایا گیا۔ ہر کوئی حیران تھا کہ جس پر دنیا کا کوئی تیر تفنگ نہیں پہنچ سکا اس کی یہ حالت اچانک کیسے ہو گئی ہے۔

پھر چند دن میں وہ وفات پا گیا۔ اسی بابل میں جہاں ملنے کی پیش گوئی منی کلیان نے چتا میں جاتے وقت کر دی تھی۔

اس واقعے کو سکندر کے تر وقائع نگاروں نے رقم کیا ہے، جن میں پلوٹارک، آریان اور اسٹرابو جیسے یونانی مؤرخین بھی شامل ہیں۔

 کیا ہندوستان کی مہم کو ترک کرنے کے پیچھے بھی منی کلیان ہی تھا؟

 تاریخ میں اس سوال کو زیرِ غور نہیں لایا گیا حالانکہ یہ تذکرہ ضرور کیا جاتا ہے کہ سکندر کو دنیا کی فتح پر اس کے بچپن کے ایک سوال نے اکسایا تھا۔

ان دنوں وہ ارسطو کا شاگرد تھا۔ ارسطو نے اپنی کٹیا میں ایک رصد گاہ بنائی ہوئی تھی جہاں وہ اپنے شاگردوں کو بتاتا تھا کہ مشرق کے پہاڑوں میں ایک بہت بڑی جھیل ہے جہاں سے سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے۔

سکندر ایک بچہ تھا، اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ایک دن وہ یہ جھیل ضرور دیکھے گا۔ وہ دنیا کو فتح کرتا ہوا ہندوستان پہنچ گیا مگر یہاں بھی سورج ویسا ہی تھا جیسا یونان میں دکھائی دیتا تھا۔

لیکن یہ سوال کہ منی کلیان نے اسے بشارت دے دی تھی کہ اب اس کے سامنے دنیا کی فتح کا باب بند ہو چکا ہے اور نفس کو فتح کرنے کا باب کھل چکا ہے۔

اس پر کوئی مؤرخ بات نہیں کرتا۔ عین ممکن ہے کہ یہ منی کلیان ہی تھا جس کے فلسفے سے متاثر ہو کر اس نے ہندوستان کی فتح کا خیال ترک کر دیا ہو اور واپسی کا راستہ اختیار کر لیا ہو کیونکہ جب وہ ہندوستان سے فارس پہنچا تو اس کی سپاہ بھی اس سے بد دل ہو چکی تھی۔ یہ وہ سکندر نہیں تھا جس کے ساتھ وہ یونان سے چلے تھے بلکہ یہ ایک اور طرح کا سکندر تھا جس پر منی کلیان کا فلسفہ حاوی ہو گیا تھا۔  

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *