پاکستان کا بجٹ اور آئی ایم ایف: فیصلے کہاں ہوتے اور اثرات کس پر پڑتے ہیں؟

ہر سال وفاقی بجٹ پیش ہوتے ہی ایک ہی بحث شروع ہو جاتی ہے کہ ٹیکسز بڑھ گئے۔ کون سی چیز سستی ہو گی اور کون سی مہنگی؟ پیٹرول کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

لیکن ایک اہم سوال اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے یعنی بجٹ میں ہونے والے یہ فیصلے آخر ہوتے کیسے ہیں؟ اور ان پر اثر انداز کون ہوتا ہے؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف: ایک پرانا تعلق

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے تقریباً سات ارب ڈالر مالیت کے پروگرام کا حصہ ہے، تاہم یہ کوئی نئی بات نہیں۔

آئی ایم ایف کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان 1958 سے اب تک 25 مرتبہ اس ادارے سے مالی مدد حاصل کر چکا ہے، جس کے باعث وہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ بار آئی ایم ایف پروگرامز میں جا چکے ہیں۔

تاہم آئی ایم ایف سے قرض لینے کے ساتھ کچھ شرائط بھی منسلک ہوتی ہیں، جنہیں معاشی زبان میں شرائط کہا جاتا ہے۔ یہ شرائط اکثر براہ راست یا بالواسطہ پاکستان کے بجٹ کا حصہ بنتی ہیں۔

بجٹ پر آئی ایم ایف کی شرائط کا اثر

ماہر معاشیات اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس پی ڈی آئی) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق رواں بجٹ میں بھی بعض شعبوں میں دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

ان کے بقول: ’جن شعبوں کو پہلے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں استثنیٰ حاصل تھا، ان پر دوبارہ ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ کھاد کا شعبہ ہو، الیکٹرک گاڑیاں ہوں یا سولر پینلز۔‘

ماہرین کے مطابق ایسی پالیسیاں حکومتی آمدن بڑھانے کے لیے کی جاتی ہیں، تاہم ان کے اثرات عام صارفین اور مختلف صنعتوں تک بھی پہنچتے ہیں۔

آدھا بجٹ قرضوں کی ادائیگی میں کیوں چلا جاتا ہے؟

پاکستان کے مالی بحران کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کہاں خرچ کرتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مالی سال 24-2023 میں قرضوں کی ادائیگی یا ڈیٹ سروسنگ، وفاقی اخراجات کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ لے گئی۔ اس کے برعکس، تعلیم اور صحت پر مجموعی وفاقی اخراجات چار فیصد سے بھی کم رہے۔

یہ اعداد و شمار وزارتِ خزانہ کی بجٹ دستاویزات میں درج ہیں۔

اس کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ پاکستان اپنے قرض واپس کرنے پر اس سے کہیں زیادہ خرچ کرتا ہے جتنا اپنے شہریوں کی تعلیم اور صحت پر۔

معاشی ماہرین کے مطابق جب بجٹ کا بڑا حصہ پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے تو باقی شعبوں کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔

زر مبادلہ کے ذخائر اور قرضوں کا دباؤ

ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر دوست ممالک، جیسے سعودی عرب یا چین، اپنے جمع کروائے گئے فنڈز واپس لے لیں تو پاکستان کے پاس بمشکل ایک ہفتے کی درآمدات کے لیے ڈالرز باقی رہیں۔

ان کے مطابق اگر پاکستان قرضوں اور بار بار آئی ایم ایف پروگرامز پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے تو اسے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ ملک زیادہ زرمبادلہ کما سکے۔

کیا ٹیکس کا بوجھ منصفانہ ہے؟

سماجی تحفظ اور ٹیکس نظام کے حوالے سے ڈاکٹر سلہری کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو مزید دستاویزی بنانا ہو گا تاکہ جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ بھی ٹیکس نیٹ میں آئیں۔

ان کے مطابق اگر معیشت کو رسمی بنایا جائے، کیش لیس لین دین کو فروغ دیا جائے اور کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی ہو تو ٹیکس کا بوجھ محدود طبقے پر غیر منصفانہ انداز میں نہیں پڑے گا۔

تعلیم اور صحت: مسئلہ آئی ایم ایف ہے یا پالیسی؟

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کم سرمایہ کاری کے حوالے سے ڈاکٹر سلہری کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو صرف آئی ایم ایف کی شرائط سے جوڑنا درست نہیں۔

ان کے مطابق جس طرح قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) موجود ہے، اسی طرز پر صوبوں میں پروونشل فنانس کمیشن فعال ہونا چاہیے تاکہ مختلف اضلاع میں وسائل زیادہ مؤثر انداز میں تقسیم کیے جا سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے چھوٹے شہروں اور پسماندہ علاقوں میں بھی تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ دینا ممکن ہو گا۔

آخر میں وہی سوال؟

ہر بجٹ کے بعد عوام مہنگائی، ٹیکس اور قیمتوں میں تبدیلی پر نظر رکھتے ہیں، لیکن شاید زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ بجٹ کے پیچھے ترجیحات کون طے کرتا ہے اور ان فیصلوں کی اصل قیمت آخر کون ادا کرتا ہے؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *