شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں اس وقت حالات کشیدہ ہیں اور 10 جون کی شام تک شہر اور اس کے گرد و نواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔
یہ صورت حال ایک ایسے واقعے کے بعد پیدا ہوئی جس نے مقامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
مظاہرے کیوں کیے جا رہے ہیں؟
مسئلے کا آغاز آٹھ جون کو شمالی بیلفاسٹ میں ہونے والے ایک چاقو حملے سے ہوا۔ اس حملے میں 40 سال سے زیادہ عمر کے ایک شخص، سٹیفن اوگِلوی، کو شدید زخمی کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ان کے چہرے اور گردن پر وار کیے۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ زخمی شخص اپنی ایک آنکھ سے محروم ہو گئے اور بدھ کو بھی ان کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
چاقو حملے کے بعد بیلفاسٹ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ منگل کی رات سینکڑوں افراد مختلف مقامات پر جمع ہوئے۔ متعدد مظاہرین نے نقاب پہن رکھے تھے۔
اس دوران ایک بس اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ شہر کے مرکز کے قریب ایک عمارت بھی نذرِ آتش ہوئی۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق بعض افراد نے پہلے کوڑے دانوں میں آگ لگائی اور بعد میں پیٹرول بم بھی پھینکے گئے۔
اطلاعات کے مطابق کچھ علاقوں میں تارکین وطن پس منظر رکھنے والے افراد کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پولیس نے 30 سالہ ہادی العدید نامی شخص کو گرفتار کیا جن پر اقدام قتل اور این ایچ ایس کے ایک ریڈیولوجسٹ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت میں پیشی کے دوران بتایا گیا کہ حملے کی ویڈیو بھی موجود ہے جو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر ہوئی۔
پولیس اور برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق ملزم فروری 2023 میں پیرس سے ڈبلن آئے اور پھر شمالی آئرلینڈ پہنچے۔
انہیں بعد میں پناہ گزین کا درجہ اور 2028 تک رہائشی ویزا دیا گیا۔ حکام کے مطابق شخص کا نام قومی سلامتی کے ڈیٹا بیس میں موجود نہیں تھا اور وہ پولیس کے لیے پہلے سے معروف نہیں تھے۔
شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل او نیل نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے نسل پرستی، دھمکیوں اور تشدد کے خلاف بیان دیتے ہوئے عوام سے پرسکون رہنے کی درخواست کی۔
متاثرہ شخص کے اہلِ خانہ نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ رات بھر ہونے والی بدامنی قابل قبول نہیں ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس سانحے کو لوگوں کے درمیان نفرت یا تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے چاقو حملے کو ’ہولناک‘ اور ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا جبکہ پی ایم آفس نے کہا کہ پولیس کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے وقت اور موقع دیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی شمالی آئرلینڈ میں تارکینِ وطن مخالف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر نفرت انگیز مواد اور تشدد پر اکسانے والے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرتی گروہ کو غیر انسانی انداز میں پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔
شمالی آئرلینڈ کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر چاقو حملے کی مذمت کی اور عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید بدامنی سے صرف مقامی برادریوں کو نقصان پہنچے گا۔
