لاہور پولیس کے مطابق رنگ محل تجارتی مرکز میں دو مختلف بینک افسران کی طرف سے سالانہ کلوزنگ کی آڑ میں تاجر کے پانچ کروڑ غائب کرنے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کر کے تین کروڑ برآمد کر لیے گئے ہیں۔ برآمد ہونے والی رقم تاجر کے حوالے کر دی گئی جب کہ دوسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
ایس پی انویسٹی گیشن لاہور فرحت عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’رنگ محل جو لاہور کا تجارتی مرکز ہے وہاں قائم نجی بینک کے ایک افسر فہد ملک کو گرفتار کر کے تین کروڑ روپے برآمد کر کے متاثرہ تاجر فہد علی کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ملزم کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ ان کا عدالت سے ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے جب کہ تاہم دوسرے مرکزی ملزم سہیل یونس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔‘
واردات کیسے کی گئی؟
متاثرہ تاجر فہد علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہماری رنگ محل میں کئی دہائیوں سے تھوک کی دکان ہے جہاں کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے۔
’میں نے اپنے ملازم طلال کو یکم جون کو چار کروڑ روپے جب کہ دو جون کو ایک کروڑ روپے کے دو چیک کیش کرانے نجی بینک کی برانچ میں بھیجا۔ وہاں پر پرسنل مینیجر یونس جو 2017 سے ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں، انہیں چیک دیے گئے لیکن انہوں نے یہ کہا کہ ابھی سالانہ کلوزنگ چل رہی ہے آپ کو رقم تین جون کو چاہیے ہم کلوزنگ کر کے پانچ کروڑ آپ کو بھجوا دیں گے۔
’یہ انہوں نے مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تو میں نے معمول کے مطابق ان کی بات مان لی۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’جب ہم نے تین جون کو رابطہ کیا تو سہیل یونس نے کہا میں ابھی بینک سے باہر ہوں واپس آکر رقم دیتا ہوں چیک کیش ہوچکے ہیں۔ لیکن سارا دن گزر گیا وہ نہ آئے جب ہم نے چار جون کو بینک جاکر برانچ مینیجر کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ سہیل نے ان کے پاس رقم نہیں رکھوائی نہ ہی آج بینک آئے ہیں۔
’جب فون کیا گیا تو ان کا فون بند تھا۔ لہذا چند دن پہلے ہم نے پولیس تھانہ رنگ محل میں درخواست دے دی۔‘
فہد علی کے بقول: ’جب ہم نے ایف آئی آر کی درخواست دی تو پولیس نے کوئی تعاون نہیں کیا۔ ہم نے خود چند دن پہلے بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جس میں سہیل یونس پانچ کروڑ لے کر بینک کے باہر دوسرے بینک کے ایک افسر فہد ملک کے ساتھ گاڑی میں جاتے دیکھے گئے۔
’یہ ویڈیو لے کر ہم پولیس تھانہ رنگ محل گئے لیکن معلوم ہوا کہ ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی۔ اتنے میں وہاں متعلقہ ایس پی آپریشنز بھی آگئے لیکن ہمیں اندازہ ہوا کہ پولیس اس حوالے سے روائتی انداز میں کام کر رہی ہے۔ لہذا ہم نے معاملہ میڈیا پر اٹھایا تو ہمیں ایف آئی آر کی کاپی ملی۔‘
اس معاملہ پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور متعلقہ ایس پی آپریشنز عاطف امیر سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ابھی تک ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تین کروڑ کیسے برآمد ہوئے؟
فہد ملک نے بتایا کہ ’ہم نے خود ہی اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ افسروں سے رابطے کیے اور واردات میں جلد کارروائی یقینی بنانے کی کوشش کی۔ جس پر انویسٹی گیشن ونگ نے کام تیز کردیا۔
’ہماری اطلاع پر پولیس نے پیر کو ملزم فہد ملک کے سسرال میں چھاپہ مارا جہاں سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے تین کروڑ روپے جو گھر رکھے تھے برآمد کر لیے ہمارے حوالے کر دیے۔
’مرکزی ملزم سہیل یونس ابھی تک فرار ہیں۔ ہماری درخواست کے باوجود ان کا نام ابھی تک ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔ اب دیکھتے ہیں اس کی گرفتاری اور دو کروڑ روپے کب تک برآمد ہوتے ہیں۔‘
