بلوچستان: بدامنی کے خلاف تاجروں، وکلا اور ملازمین کی پہیہ جام ہڑتال

بلوچستان میں حالیہ امن کی سنگین صورتحال کے باعث جمعرات کو تاجر تنظیموں، وکلا، سیاسی جماعتوں، ملازمین کے ٹریڈ یونین فیڈریشن اور ڈاکٹروں کی اپیل پر پہیہ جام اور شٹر ڈوان ہڑتال کی جا رہی ہے۔

ہڑتال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں کاروباری سرگرمیاں، قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

حکومت بلوچستان محکمہ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کا کہنا کہ ہڑتال سے متعلق زیادہ تر مطالبات کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت وفاق اور مظاہرین کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے معدنیات کی گاڑیوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے اور نوشکی، ہرنائی، خضدار، تربت،  پنجگور، پشین، ژوب اور دیگر مقامات پر درجنوں گاڑیاں نذر آتش بھی کی گئی ہیں۔

ٹرانسپورٹ تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران ٹرانسپورٹروں کی درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

’ہمارا مطالبہ ہے کہ شاہراہوں کو محفوظ بنا کر ٹرانسپورٹروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔‘

چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوبے میں ٹرک جلائے جانے سے ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور مائنز مالکان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر صوبے کی شاہراہوں کو محفوظ بنائیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا کہ ان کے مطالبات کی منظوری تک شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔

وکلا تنظیموں نے بھی صوبے میں بدامنی کے خلاف جمعرات کو عدالتوں میں بایئکاٹ کیا اور وکلا بطور احتجاج عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

مختلف ملازمین تنظیموں کے اتحاد پر مشتمل گرینڈ الائنس نے تاجروں، ٹرانسپورٹروں، مائیز مالکان اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے بلوچستان بھر کے سرکاری دفاتر میں سیاہ جھنڈے لہرائے۔

اس حوالے سے سربراہ گرینڈ الائنس عبد القدوس کاکڑ نے بتایا کہ 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اور 15 جون کو تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کے دن کوئٹہ میں پرامن دھرنا دیا جائے کہ اور 12 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد تک احتجاج جاری رہےگا۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے خلاف بلوچستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں بعض ڈاکٹرز تنظیموں کی اپیل پر پانچویں روز بھی او پی ڈیز سے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی امور شاہد رند کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے ڈاکٹر تنظیموں کو مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن وہ بات ماننے پر تیار نہیں اس لیے حکومت بلوچستان نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی کے معاملات پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 23 ڈاکٹروں کو معطل جبکہ 25 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *