پروفیسری آسان کام نہیں ہے۔ جامعات کے انتظامی مسائل، سیاسی ماحول، اقربا پروری اور حسد جیسے مسائل تو بہت بعد میں آتے ہیں، جامعات میں پروفیسروں کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ سامنا طالب علموں سے ہوتا ہے۔
جہاں بہت سے طالب علم عزت و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے پروفیسروں سے بات کرتے ہیں، وہیں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پروفیسروں کی ہر بات اور عمل کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔
ان کا پروفیسر سے کسی بھی نظریاتی نکتے پر اختلاف ہو سکتا ہے۔ اگر وہ مکالمے پر یقین رکھتے ہوں تو بات کرتے ہیں ورنہ ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ پہلے جو بات کمرہ جماعت کی چار دیواری تک محدود رہتی تھی، اب بغیر سیاق و سباق کے سوشل میڈیا تک پہنچ جاتی ہے۔
پھر ایک طوفان اٹھتا ہے اور مکمل بات جانے بغیر سوشل میڈیا پروفیسر کے کیریئر کا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ جامعہ بھی اس فیصلے کے آگے سر جھکا لیتی ہے اور پروفیسر چند گھنٹوں میں نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
یہاں سے بچت ہو تو پروفیسروں کا سامنا ان طالب علموں سے ہوتا ہے جو ہر وقت کسی نہ کسی فیور کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
کبھی انہیں اپنی حاضری پوری کروانی ہوتی ہے، کبھی اسائنمنٹ کی تاریخ میں توسیع لینی ہوتی ہے تو کبھی حاصل شدہ نمبر بڑھوانے ہوتے ہیں۔
طالب علموں کو ان کی مرضی کا فیور مل جائے تو آپ ان کے پسندیدہ ترین پروفیسر بن جاتے ہیں اور اگر آپ انکار کر دیں تو آپ سے برا کوئی نہیں ہوتا۔
پھر یہ مختلف دفاتر میں یک طرفہ کہانی سناتے ہیں اور اپنے لیے فیور لینے کے چکر میں پروفیسر کا کیریئر داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
پروفیسر اور طالب علم چار ماہ ایک ساتھ گزارتے ہیں۔ ان چار مہینوں میں جتنا طالب علم کو پروفیسر کے مزاج کا پتہ لگتا ہے، اتنا ہی پروفیسروں کو بھی طلبہ کے رنگ ڈھنگ پتہ لگ جاتے ہیں۔
سمسٹر کے وسط تک پروفیسر کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ چند ہفتے بعد فلاں اور فلاں طالب علم مختلف فیور لینے کے لیے ان کے دفتر کے چکر لگائیں گے۔ اکثر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بہانے کیا ہوں گے۔
ایسے طالب علموں کے لیے گنجائش نکالنا ان طالب علموں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوتی ہے جو پورا سمسٹر باقاعدگی سے کلاس میں آتے ہیں، لیکچر سنتے ہیں اور ہر اسائنمنٹ اور پیپر محنت سے مکمل کرتے ہیں۔
مجھے اپنے اکیڈیمک کیریئر کے پہلے سمسٹر کے بعد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ سمسٹر کے آغاز میں کمرہ جماعت میں چپ چاپ بیٹھے طالب علم سمسٹر کے اختتام تک میرے کیریئر کے دشمن بن سکتے ہیں۔
اس لیے میں ہر سمسٹر کے آغاز میں ہی انہیں صاف کہہ دیتی ہوں کہ جامعہ کی پالیسیاں پڑھیں اور ان کے مطابق عمل کریں۔ کسی بھی طالب علم کے لیے ان پالیسیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی۔
گنجائش صرف ایمرجنسی کی صورت میں نکلے گی اور اس ایمرجنسی کا تعین جامعہ کرے گی کیونکہ طالب علم کی ذاتی ایمرجنسی اور ادارہ جاتی سطح پر تسلیم شدہ ایمرجنسی میں فرق ہو سکتا ہے۔
ہمارے ایک ڈین کہتے ہیں کہ ہمیشہ پالیسیوں پر عمل کریں۔ ایسا کرنا آپ کو مسائل سے بچائے گا۔
طالب علم کوئی بھی کہانی سنائے، اگر پالیسی میں گنجائش نہیں ہے تو اس کے لیے گنجائش پیدا نہ کریں۔
اپنے ریکارڈ صاف رکھیں۔ جب انکوائری ہو، وہ ریکارڈ یونیورسٹی کے سامنے رکھ دیں اور طالب علم کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنے دیں۔
طالب علم ہمیشہ غلط نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ بھی زیادتی ہوتی ہے۔ جامعات میں اس کے ازالے کے لیے ایک مکمل نظام موجود ہوتا ہے۔ طالب علم پہلے فیکلٹی سے بات کر کے معاملہ حل کروا سکتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہاں بات نہ بنے تو ڈیپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں اور اگر وہاں بھی داد رسی نہ ہو تو ادارہ جاتی نظام کے تحت باقاعدہ انکوائری کروا سکتے ہیں۔
جامعات کی پہلی ترجیح طلبہ کی فلاح و بہبود ہوتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور اس کا علمی سفر مکمل دیانت داری کے ساتھ طے ہو۔
اسی نکتے پر توازن بگڑتا ہے۔ جب پروفیسر اور طالب علم آمنے سامنے ہوں تو ہمدردی کا پلڑا فطری طور پر طالب علم کی طرف جھک جاتا ہے۔
کچھ طالب علم اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پروفیسرز پر جھوٹے الزام دائر کرتے ہیں اور ان کا کیریئر مشکل میں ڈالتے ہیں۔
ایک صحت مند متوازن تعلیمی ماحول کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کے مسائل کی داد رسی کے لیے موجود نظام کو بہتر کیا جائے لیکن ساتھ ہی ساتھ اساتذہ کو بھی بے بنیاد الزامات اور کردار کشی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
انہیں یقین دلایا جائے کہ کوئی ای میل، کال، یا سوشل میڈیا پوسٹ ان کی نوکری کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔
جب تک انہیں یہ یقین نہیں ہوگا وہ نہ دیانت داری سے پڑھائیں گے، نہ دیانتداری سے طالب علموں کی علمی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔
نہ ان کے ساتھ خیالات کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں گے اور ہمارا تعلیمی نظام طاقت کے نشے میں چور لوگ پیدا کرتا رہے گا جو بس ہر بات پر کسی کی نوکری ختم کروانے کے درپے ہوں گے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
