وفاقی وزیر احسن اقبال نے قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے اس سال دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم حصہ ملنے کا عندیہ دیا ہے جس پر ماہرین معیشت کے مطابق پنجاب میں حکومتی منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔
پاکستان میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2010 میں وفاق کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ تشکیل دیا گیا تھا۔
جس کے بعد ہر وفاقی اور چاروں صوبوں کے سالانہ بجٹ کے موقع پر اس حوالے سے بحث معمول بنی ہوئی ہے۔
کیونکہ بعض ماہرین معیشت کے خیال میں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو وسائل تقسیم کر کے وفاق کے پاس بجٹ بہت کم بچتا ہے، جس سے اخراجات پورے نہ ہونے پر قرضے واپس کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔
جبکہ بعض ماہرین کے مطابق وفاق اور صوبے اگر موجودہ وسائل بھی منظم طریقے سے خرچ کریں تو ملک بھر میں مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے گذشتہ روز پیر کو پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت ترقیاتی فنڈز کا زیادہ حصہ چھوٹے صوبوں کو مختص کرے گی۔ سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان، اس کے بعد سندھ اور خیبر پختونخوا کا نمبر ہوگا، جبکہ پنجاب کو وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سب سے کم حصہ ملے گا۔‘
اس بارے میں محکمہ خزانہ پنجاب کی ترجمان امبر جبیں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن اس بارے میں وفاقی حکومت سے بات کریں گے، کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو کم فنڈز ملنے سے پنجاب کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے۔
لہٰذا پنجاب کا جو حصہ بنتا ہے وہ ملنا چاہیے تاکہ یہاں کے عوام کی حق تلفی نہ ہوسکے۔ فنڈز کم ملنے پر پنجاب کا بجٹ بھی گذشتہ سال کی نسبت کم رہے گا۔‘
صوبوں میں وسائل کی تقسیم اور وفاق کی مشکلات
ماہر معیشت فرخ سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں میں وسائل کی تقسیم سے وفاق کو مالی مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر وسائل کو منظم اور شفافیت کے ساتھ خرچ کیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘
معیشت دان الماس حیدر کے بقول، ’جب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وسائل کی تقسیم کا فارمولا لاگو ہوا، وفاق مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ نہ ہی انتظامی اخراجات پورے ہوتے ہیں، نہ ہی بیرونی قرضوں کے بغیر وفاقی بجٹ تیار ہوتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت وفاق صوبوں میں فنڈز تقسیم کر کے خود قرضوں کی واپسی کے لیے بھی قرضہ لینے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ میں ٹیکس بڑھا کر عوام پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔‘
ہر سال بجٹ کے موقع پر عوامی حلقوں میں ریلیف کی بجائے ٹیکسوں کے عائد ہونے پر مہنگائی بڑھنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔
بقول فرخ سلیم: ’ہر سال وفاق اور صوبوں میں مالی تقسیم ہوتی ہے جس کے ثمرات پوری طرح عوام تک نہیں پہنچتے۔ اس سال وفاقی حکومت نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر چار ہزار تین سو ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں سے تین ہزار تین سو ارب روپے صوبوں کو جبکہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد وفاق کو ملیں گے۔
لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتیں اگر شفاف طریقے سے ملک کے 169 اضلاع میں فی ضلع 24 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرادیں تو صحت، تعلیم، سیوریج سمیت بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘
پنجاب کا بجٹ کتنا متاثر ہوگا؟
انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق گذشتہ سال 2025-26 میں پنجاب کے بجٹ کا کل حجم پانچ ہزار تین سو ارب سے زائد رکھا گیا تھا، لیکن اس سال اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل 2026-27 کے بجٹ میں مختلف ترقیاتی سکیموں اور انتظامی اخراجات کے لیے پانچ ہزار ایک سو 31 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امبر جبیں کے بقول، ’اگر پنجاب کے حصے میں فنڈز کم کیے جائیں گے تو بجٹ میں مختص فنڈز میں کمی بھی یقینی ہوگی۔ یہاں بہت سے جاری منصوبے اور نئے منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔‘
الماس حیدر نے کہا کہ ’این ایف سی ایوارڈ سے وسائل کی تقسیم کے مسائل سب کو نظر آتے ہیں، لیکن جس طرح اسے لاگو کیا گیا تھا اسی طرح سیاسی گفتگو کے ذریعے تبدیل کیوں نہیں کیا جاسکتا؟‘
فرخ سلیم کے بقول: ’این ایف سی ایوارڈ کے بعد 17 بجٹ آ چکے ہیں لیکن عوام کے لیے ان میں کچھ نیا نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وزیر خزانہ قومی اسمبلی اور صوبوں کے وزرائے خزانہ اپنی اسمبلیوں میں ہزاروں ارب کے بجٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے لوگوں کو خوفزدہ کردیا جاتا ہے۔
ہر بار خطیر فنڈز جاری ہوتے ہیں اور چند منصوبے بغیر منصوبہ بندی کے شروع کیے جاتے ہیں۔ کچھ مکمل ہوجاتے ہیں، کچھ کئی کئی سال بنتے رہتے ہیں۔‘
وفاقی حکومت نے ابھی تک اس سال کے بجٹ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے میڈیا سے گفتگو میں موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ 16 جون کو پیش کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
