جب بھی دنیا کے کسی خطے میں جنگ چھڑتی ہے تو عام آدمی کی توجہ توپوں کی گھن گرج، میزائل حملوں، تباہ شدہ عمارتوں اور انسانی المیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
ٹیلی ویژن سکرینوں پر فوجی کارروائیاں، اخبارات میں سخت بیانات اور سوشل میڈیا پر جذباتی تبصرے دیکھ کر اکثر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اب متحارب ممالک کے درمیان ہر قسم کا رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ گویا وہ ایک دوسرے سے مکمل لاتعلق ہو گئے ہیں۔ یہ تصور فطری ضرور ہے، لیکن بین الاقوامی سیاست کی حقیقت اس سے خاصی مختلف ہے۔
ریاستیں افراد کی طرح غصے، انا یا وقتی جذبات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں۔ ان کے فیصلوں کی بنیاد قومی مفادات، سلامتی، معیشت، سفارت کاری اور طویل المدت حکمت عملی ہوتی ہے۔ اسی لیے تاریخ بتاتی ہے کہ شدید ترین جنگوں کے دوران بھی پسِ پردہ رابطے، خفیہ پیغامات، سفارتی ملاقاتیں اور مذاکرات کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہی خاموش رابطے ایک ایسی جنگ کو وسیع ہونے سے روک دیتے ہیں جو پورے خطے یا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے معروف مفکر کارل فان کلازوٹز نے کہا تھا کہ ’جنگ، سیاست کا ایک ایسا تسلسل ہے جو دوسرے ذرائع سے انجام پاتا ہے۔۔‘ اس ایک جملے میں ریاستی نظام کی پوری منطق پوشیدہ ہے۔ اگر جنگ سیاست کا حصہ ہے تو پھر سفارت کاری بھی جنگ کے دوران ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ میدان میں فوجیں لڑ رہی ہوتی ہیں جبکہ پسِ پردہ سفارت کار، انٹیلی جنس ادارے اور ثالث مستقبل کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔
امریکی سفارت کار ہنری کسنجر نے بھی اپنی زندگی میں بارہا اس حقیقت پر زور دیا کہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ یہی مفادات ریاستوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ شدید اختلافات کے باوجود رابطے کا کوئی نہ کوئی دروازہ کھلا رکھیں۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کی شدید جنگ میں بھی سفارت کاری کا عمل جاری ہے۔ عوام کو صرف میزائل، ڈرون حملے اور سخت بیانات نظر آتے ہیں، لیکن سفارتی دنیا جانتی ہے کہ ایسے بحرانوں میں عمان، قطر، سوئٹزرلینڈ یا دیگر ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری رہتا ہے۔ اس کا مقصد دوستی قائم کرنا نہیں بلکہ غلط اندازوں سے بچنا، بحران کو قابو میں رکھنا اور ایسے فیصلوں سے گریز کرنا ہوتا ہے جو ایک محدود جنگ کو عالمی تصادم میں تبدیل کر دیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جنگ اور سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ اکثر ایک ہی وقت میں چلنے والے دو عمل ہیں۔ ایک طرف گولیاں چل رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف رابطے بھی قائم رہتے ہیں۔ میدانِ جنگ میں طاقت آزمائی جا رہی ہوتی ہے جبکہ پسِ پردہ سیاسی راستے بھی تلاش کیے جا رہے ہوتے ہیں۔
عام لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر رابطے موجود ہوتے ہیں تو ہمیں ان کا علم کیوں نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بین الاقوامی سفارت کاری کا بڑا حصہ عوامی جلسوں یا میڈیا کے سامنے نہیں ہوتا۔ اسے بیک چینل ڈپلومیسی کہا جاتا ہے، یعنی ایسی سفارت کاری جو خاموشی سے، محدود افراد کے ذریعے اور اکثر مکمل رازداری میں انجام دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد جذبات سے ہٹ کر مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔یہ ہی خاموش دنیا دراصل بین الاقوامی سیاست کا وہ پہلو ہے جسے عام آدمی کم دیکھ پاتا ہے، حالانکہ عالمی امن اور استحکام میں اس کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔
اس تناظر میں ایک اور غلط فہمی کی بھی اصلاح ضروری ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جنگ کے دوران مذاکرات یا رابطے جاری ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ محض ایک ڈراما یا پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے۔ یہ نتیجہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگیں حقیقی ہوتی ہیں، ان میں انسان مرتے ہیں، شہر تباہ ہوتے ہیں اور معیشتیں برباد ہوتی ہیں۔ سفارتی رابطوں کا مقصد جنگ کو مصنوعی ثابت کرنا نہیں بلکہ اس کے نقصانات کو محدود کرنا، غلط فہمیوں سے بچنا اور اگر ممکن ہو تو مستقبل میں امن کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جدید دنیا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ باہم مربوط ہو چکی ہے۔ توانائی، تجارت، عالمی مالیاتی نظام، سائبر سکیورٹی، سمندری راستے اور جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حتیٰ الامکان رابطے برقرار رکھے جائیں۔ اگر ریاستیں ایک دوسرے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو جائیں تو ایک معمولی غلط اندازہ بھی ایک بڑے علاقائی یا عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خبروں میں عموماً میزائل حملے، دھماکے، اموات اور سخت بیانات نمایاں ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہی فوری خبر بنتی ہے۔ اس کے برعکس سفارتی ملاقاتیں، پس پردہ پیغام رسانی اور خاموش مذاکرات اکثر منظر عام پر نہیں آتے۔ کئی برس بعد جب سرکاری دستاویزات یا اہم شخصیات کی یادداشتیں شائع ہوتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں دنیا جنگ کو صرف ہتھیاروں کی نظر سے دیکھ رہی تھی، انہی دنوں سفارت کار کسی ممکنہ حل کی تلاش میں مصروف تھے۔
لہٰذا بین الاقوامی سیاست کو محض جذبات یا ظاہری مناظر کی بنیاد پر سمجھنا کافی نہیں۔ ریاستوں کے فیصلوں کے پیچھے طاقت، سفارت کاری، معیشت، تاریخ، جغرافیہ اور قومی مفادات جیسے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دشمنی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے، لیکن رابطے کا ایک دھاگا بھی ٹوٹنے نہیں دیا جاتا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہمیں عالمی سیاست کو صحیح معنوں میں سمجھنا ہے تو ہمیں صرف میدانِ جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری کی خاموش دنیا کو بھی سمجھنا ہوگا۔ جنگیں بلاشبہ بندوقوں، میزائلوں اور فوجوں سے لڑی جاتی ہیں، لیکن ان کے آغاز، ان کی شدت اور بالآ خر ان کے خاتمے میں مذاکرات، رابطوں اور سیاسی حکمتِ عملی کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے۔
شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ جنگ صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی، اس کا ایک اہم محاذ سفارت کاری بھی ہوتا ہے۔ توپوں کی آوازیں سب سن لیتے ہیں، لیکن پسِ پردہ ہونے والی گفتگو ہی اکثر تاریخ کا رخ متعین کرتی ہے۔
اکثر لوگ بین الاقوامی سیاست کو روزمرہ زندگی کے تعلقات کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جب دو ممالک جنگ میں مصروف ہوں تو ان کے درمیان ہر قسم کا رابطہ ختم ہو جانا چاہیے۔ شاید اس تصور کی وجہ یہ ہے کہ ہم ریاست کو بھی ایک فرد کی طرح سمجھتے ہیں، حالانکہ ریاست ایک پیچیدہ ادارہ ہے جو جذبات سے زیادہ مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔
اسی لیے دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے شدید اختلافات کے باوجود سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرتیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی کا مقابلہ اور تائیوان کے مسئلے پر شدید اختلافات موجود ہیں، لیکن دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ، فوجی حکام اور معاشی نمائندے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ عالمی معیشت اس حد تک ایک دوسرے سے جڑ چکی ہے کہ مکمل قطع تعلق خود اپنے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہی اصول ایران، اسرائیل، روس، یوکرین، پاکستان، انڈیا اور دیگر ممالک پر بھی کسی نہ کسی حد تک لاگو ہوتا ہے۔ جنگ کا مقصد ہمیشہ دشمن کو ختم کرنا نہیں ہوتا بلکہ اکثر اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب مقاصد بدلتے ہیں تو مذاکرات کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے دور میں ہر واقعے کو دو انتہاؤں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ دشمن ممالک کبھی بات نہیں کرتے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ہر جنگ کو پہلے سے طے شدہ ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔ جنگیں حقیقی ہوتی ہیں، ان کے نقصانات بھی حقیقی ہوتے ہیں، لیکن سفارت کاری بھی حقیقی ہوتی ہے اور وہ اکثر جنگ کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔
آج عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے صرف خبریں دیکھنا کافی نہیں، بلکہ ان خبروں کے پیچھے کارفرما سفارتی عمل کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جو کچھ ہمیں ٹیلی ویژن کی سکرین پر دکھائی دیتا ہے، وہ پوری کہانی نہیں ہوتی، اصل کہانی کا ایک حصہ بند کمروں، سفارتی پیغامات، ثالثی کی کوششوں اور خاموش مذاکرات میں بھی لکھا جا رہا ہوتا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ دانش مند ریاستیں جنگ کے دوران بھی رابطے ختم نہیں کرتیں۔
اس لیے جب آئندہ کسی جنگ کی خبر سنیں تو صرف یہ نہ دیکھیں کہ کون سا میزائل کہاں گرا ہے، بلکہ یہ بھی سوچیں کہ شاید اسی وقت کہیں کوئی سفارت کار، کوئی ثالث یا کوئی نمائندہ خاموشی سے ایک ایسے پیغام کی تیاری میں مصروف ہو جو کل جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے یا امن مذاکرات کی بنیاد بن جائے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں میدان میں شروع ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا اختتام اکثر مذاکرات کی میز پر ہی لکھا جاتا ہے۔
