وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منگل کو بتایا کہ وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
طارق فضل چوہدری نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 10 جون کو بلانے کے لیے سمری بھیجی گئی ہے ’امکان ہے کہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔‘
ایک روز قبل، پیر کی شب وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت کابینہ کے اہم وزرا کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں دیگر امور کے علاوہ مجوزہ بجٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں ’بجٹ تجاویز اور عوامی ریلیف سے متعلق بات کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’صدر نے ہدایت کی کہ آنے والے بجٹ میں شرحِ ترقی اور عوامی فلاح کی سکیموں کو ہم آہنگ کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔‘
سرکاری طور پر بجٹ تجاویز سے متعلق کچھ نہیں کہا گیا البتہ اطلاعات کے مطابق حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی اہداف برقرار رکھتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ پچاس ہزار سے دو لاکھ روپے آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس میں نرمی کی تجاویز مختلف سطحوں پر زیر بحث ہیں، تاہم حتمی فیصلہ دستیاب مالی گنجائش اور محصولات کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
