محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ کے زیر اہتمام کراچی کی سمبارا آرٹ گیلری میں ’کلرز آف سندھ‘ کے عنوان سے تین روزہ آرٹ نمائش منعقد کی گئی، جو 6 جون سے 8 جون تک جاری رہی۔
نمائش میں کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے 42 آرٹسٹوں کے 70 سے زائد فن پارے پیش کیے گئے۔ ان فن پاروں میں سندھ کی ثقافت، تہذیب، تاریخ، معیشت اور سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی گئی۔
نمائش میں موہن جو دڑو پر بنائی گئی ایک منفرد پینٹنگ خاص توجہ کا مرکز بنی رہی، جس میں جدید تخلیقی تکنیک استعمال کی گئی تھی۔
اس پینٹنگ کی مصور اقصیٰ وحید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس فن پارے میں خصوصی لائٹنگ ایفیکٹ شامل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق: ’اس پینٹنگ کو مختلف رنگوں اور تہوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ جب روشنی آن کی جائے تو یہ موہن جو دڑو کی قدیم اور اصل شکل دکھاتی ہے، جبکہ روشنی کے انداز بدلنے سے یہ تباہی کے بعد کی موجودہ حالت میں نظر آتی ہے۔‘
نمائش کے کیوریٹر شہزاد کھتری کے مطابق اس ایونٹ کا بنیادی مقصد سندھ کی ثقافت اور تہذیب کو اجاگر کرنا اور نوجوان فنکاروں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’اس نمائش کا ایک اہم مقصد ابھرتے ہوئے آرٹسٹوں کو پلیٹ فارم دینا ہے۔ ہمارے ساتھ شامل زیادہ تر آرٹسٹس یونیورسٹیوں کے گریجویٹ اور انڈرگریجویٹ طلبہ ہیں، جنہیں عام طور پر آرٹ گیلریوں میں کم مواقع ملتے ہیں۔ محکمہ ثقافت نے یہ خلا پُر کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اصل اور باصلاحیت فنکار اپنی تخلیقات عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ نمائش میں شریک فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منفرد سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت اگر کسی فنکار کا فن پارہ فروخت ہوتا ہے تو محکمہ ثقافت اس پر کوئی کمیشن وصول نہیں کرتا۔
ان کے بقول: ’اس اقدام کا مقصد فنکاروں کو معاشی طور پر سہارا دینا اور ان کے فن کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔‘
نمائش میں آنے والے شرکا نے فن پاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور مختلف تخلیقات کو سراہا۔
نمائش میں شریک حرا فاطمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ہر پینٹنگ اپنے اندر ایک الگ کہانی اور دنیا سموئے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق: ’کچھ فن پاروں میں تصوف کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جبکہ کچھ میں جدید خیالات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اگرچہ ہر پینٹنگ بظاہر مختلف ہے، لیکن جب غور سے دیکھا جائے تو ان کے پیچھے موجود محنت، وقت اور تخلیقی سوچ واضح ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مصوری صرف تصویر کشی نہیں بلکہ جذبات اور تخیل کو رنگوں کے ذریعے ایک نئی شکل دینے کا نام ہے۔ ’فوٹوگرافی ایک لمحے کو محفوظ کرتی ہے، لیکن پینٹنگ میں فنکار اپنے احساسات اور تخیل سے ایک نئی دنیا تخلیق کرتا ہے، جو اسے ایک عام تصویر سے کہیں زیادہ ایک مکمل فن پارہ بنا دیتی ہے۔‘
آرٹسٹوں کے مطابق نمائش اس بات کی عکاس ہے کہ سندھ کی ثقافت، تاریخ اور جدید فن ایک ساتھ مل کر ایک نیا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔
