پاکستان اور چین کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست 1267 میں شامل کرنے کی تجویز کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فی الحال روک دیا گیا ہے۔
یہ فہرست اقوام متحدہ کا وہ مرکزی انسدادِ دہشت گردی نظام ہے جس کے تحت القاعدہ، داعش اور ان سے منسلک تنظیموں اور افراد پر عالمی سطح پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔
ٹیکنیکل ہولڈ کیا ہے؟
امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس تجویز پر ’ٹیکنیکل ہولڈ‘ لگا دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد فیصلہ فوری طور پر آگے نہیں بڑھ سکا، تاہم اسے مسترد بھی نہیں کیا گیا۔
سلامتی کونسل کے قواعد کے مطابق ٹیکنیکل ہولڈ ایک عارضی سفارتی وقفہ ہوتا ہے جس کے دوران متعلقہ ممالک سے مزید مشاورت، شواہد یا وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔ اس عمل کے دوران پاکستان اور چین کو دیگر رکن ممالک کے ساتھ اپنی سفارتی مشاورت مزید بڑھانی پڑ سکتی ہے۔
اگر کسی تنظیم کو فہرست 1267 میں شامل کر لیا جائے تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر سخت پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، جن میں اثاثوں کی منجمدگی، سفری پابندیاں اور اسلحہ کی خرید و فروخت پر پابندی شامل ہے۔
اس مرحلے پر دیگر ارکان سلامتی کونسل کی جانب سے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ٹیکنیکل ہولڈ پر کوئی باضابطہ اعتراض سامنے نہیں آیا۔
ابھی تک امریکہ یا فرانس کی جانب سے اس فیصلے کی تفصیلی وضاحت جاری نہیں کی گئی، تاہم سفارتی حلقوں میں ٹیکنیکل ہولڈ کو اکثر اضافی شواہد، وقت یا مزید مشاورت کی ضرورت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بی ایل اے اور پاکستان کا مؤقف
بی ایل اے خود کو بلوچستان کے حقوق اور آزادی کی تحریک کے طور پر پیش کرتی ہے جب کہ پاکستان اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اس پر شہریوں، سکیورٹی فورسز اور بلوچستان میں چینی منصوبوں پر حملوں کا الزام عائد کرتا ہے۔
امریکہ اس سے قبل اگست 2025 میں مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ یہ فیصلہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان اور چین کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی اور اس کے خودکش بریگیڈ گروپ، مجید بریگیڈ کو پابندیوں کی فہرست 1267 میں شامل کرنے کی تجویز پر پیش رفت سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے نیویارک میں تعینات ایک سفارتی ذریعے نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ عمل ایک مخصوص قانونی اور طریقہ کار کے تحت آگے بڑھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طریقہ کار کے مطابق، اگر 15 روزہ نو آبجیکشن پروسیجر کے دوران کسی نامزدگی کی درخواست پر ٹیکنیکل ہولڈ لگا دیا جائے تو اس کا جائزہ لینے کی مدت چھ ماہ ہوتی ہے، جس کے بعد مزید تین ماہ کا وقت دیا جاتا ہے، اور پھر یہ مجموعی طور پر نو ماہ بعد ختم ہو جاتی ہے۔ اگر اس مدت سے پہلے اعتراض آ جائے (جیسا کہ یہاں ہوا، جہاں برطانیہ، امریکہ اور فرانس نے اعتراض کیا) تو مستقبل میں نئی نامزدگی کی درخواست جمع کرانا ضروری ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اس معاملے پر متعلقہ سلامتی کونسل اراکین اور دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے۔ پاکستان اس مسئلے پر باقاعدگی سے متعلقہ کونسل ارکان اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔
’دراصل پاکستان کی سفارتی کوششوں اور فعال رابطوں کے نتیجے میں امریکہ نے اگست 2025 میں بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو اپنی فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن (ایف ٹی او) اور اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ (ایس ڈی جی ٹی) کی فہرست میں شامل کیا۔‘
اسی طرح گذشتہ ماہ مئی میں آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے کو اپنے ملک میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ برطانیہ نے بی ایل اے کو 2006 میں ہی کالعدم قرار دیا تھا جب کہ امریکہ نے اسے 2019 میں ایس ڈی جی ٹی کے طور پر نامزد کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے۔ ’ہمیں یقینا اس پر مایوسی ہے، کیونکہ اس سے ان دہشت گردوں پر عالمی سطح پر اسلحہ کی پابندی، اثاثوں کی منجمدگی اور سفری پابندیاں عائد نہیں ہو سکیں گی۔ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکنیکی اور قانونی عمل ہے جس میں بعض اوقات مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔‘
سفارتی ذریعے نے مزید کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ انڈیا میں موجود سوشل میڈیا اکاؤنٹس اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں، جو کہ متوقع تھا، اور یہ اس بات کا ثبوت سمجھا جانا چاہیے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی میں براہ راست ملوث ہیں۔‘
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب اور سینیئر سفارت کار منیر اکرم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’اصل سوال یہ اٹھایا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ونگ مجید بریگیڈ کا القاعدہ کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں کیوں کہ 1267 کمیٹی بنیادی طور پر القاعدہ، داعش اور ان سے منسلک عناصر کے لیے قائم کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برسوں میں کچھ دیگر گروہوں کو بھی مختلف فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر طالبان کو پہلے اسی فریم ورک کے تحت دیکھا جاتا تھا، لیکن بعد میں ان کے لیے الگ 1988 کمیٹی قائم کی گئی۔
امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے القاعدہ کے ساتھ روابط ثابت نہیں ہوئے، اسی بنیاد پر انہوں نے اس تجویز پر ہولڈ لگایا۔
پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ خاص طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان روابط موجود ہیں اور ٹی ٹی پی کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات بھی تسلیم شدہ ہیں۔
پاکستان نے انہیں کافی معلومات اور شواہد فراہم کیے، لیکن امریکہ، فرانس اور برطانیہ اس حوالے سے مطمئن نہیں ہوئے، جس کے نتیجے میں فہرست 1267 میں بی ایل اے کی نامزدگی کو روک دیا گیا۔
منیر اکرم کے مطابق: ’حقیقت یہ ہے کہ سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ مختلف ممالک اسے اپنی قومی سطح پر پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت اسے کس فہرست ‘میں شامل کیا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’اب ہماری کوشش جاری رہے گی کہ سلامتی کونسل کے کسی مناسب طریقہ کار کے تحت اس تنظیم کو فہرست میں شامل کروایا جائے۔ اگر 1267 کے تحت رکاوٹ پیش آئی ہے تو ہمیں کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔‘
ان کے مطابق سلامتی کونسل کے پاس مختلف پابندیوں کی فہرستیں موجود ہیں، جن میں 1267 القاعدہ، داعش اور ان کے معاونین کے لیے ہے جب کہ طالبان کے لیے الگ فہرست 1988 موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ: ’پاکستان کا مؤقف یہی تھا کہ چونکہ بی ایل اے کے ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے روابط ہیں، اس لیے اسے فہرست1267 میں شامل کیا جانا چاہیے، لیکن امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس بات پر مطمئن نہیں تھے کہ یہ روابط ثابت ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ معاملہ کافی عرصے سے زیر غور تھا۔ اب اگر اس میں رکاوٹ آ گئی ہے تو دوبارہ کوئی نیا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔‘
آخر میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے میں صرف تکنیکی اور قانونی نہیں بلکہ سیاسی عوامل بھی موجود ہیں۔
’میرا خیال ہے کہ انڈیا نہیں چاہتا کہ بی ایل اے پر اقوام متحدہ کی سطح پر پابندیاں لگیں یا اسے القاعدہ سے منسلک قرار دیا جائے۔ انڈیا کا مغربی ممالک کے ساتھ اثر و رسوخ موجود ہے اور اس نے اسے استعمال کیا ہے۔ اس معاملے میں تکنیکی اور قانونی پہلو اپنی جگہ، لیکن سیاسی عوامل بھی یقیناً موجود ہیں۔‘
