’ناقابل شکست دوستی‘: چینی صدر سات سال بعد شمالی کوریا پہنچ گئے

چین کے صدر شی جن پنگ سات سال بعد پیر کو شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے پیانگ یانگ کے ساتھ ’ناقابل شکست دوستی‘ کو سراہا۔ 

بیجنگ میں مسلسل دو سربراہی ملاقاتوں کی میزبانی کے بعد یہ اس سال ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

چین، جو واشنگٹن کا بڑا جغرافیائی سیاسی حریف ہے، کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے اور متعدد عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے والے اس ملک کے لیے سفارتی اور معاشی مدد کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔

چینی خبررساں ادارے شنہوا کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا کے فوجی افسر سرخ قالین کے کنارے پر قطار بنائے کھڑے ہیں جب شی جن پنگ کو لے کر ایئر چائنہ کا طیارہ پہنچا۔ یہ 2019 کے بعد ان کا شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔

ایئرپورٹ پر چینی اور شمالی کوریائی پرچموں کے نیچے ایک بینر آویزاں تھا، جس پر لکھا تھا: ’ہم کامریڈ شی جن پنگ کا گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے ہیں۔‘ بینر میں دونوں ملکوں کی ’اٹوٹ دوستی‘ کو سراہا گیا۔

شی جن پنگ نے یہ دورہ ایسے وقت کیا ہے جب وہ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے ولادی میر پوتن کی الگ الگ میزبانی کر چکے ہیں، جب کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شی جن پنگ اور ٹرمپ نے بیجنگ میں اپنی ملاقات کے دوران ’شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ ہدف کی تصدیق کی۔‘

تاہم شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی بااثر بہن نے شی جن پنگ کی آمد سے ایک دن پہلے کہا کہ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ’واپسی کی حد سے آگے‘ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی پال یونیورسٹی میں سفارت کاری کی پروفیسر من سیون کو، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’بیجنگ شاید شمالی کوریا کو جوہری ریاست کے طور پر قبول کر چکا ہے۔‘ لیکن شی جن پنگ ’ممکنہ طور پر کم جونگ ان سے کہیں گے کہ چین سب سے بڑھ کر استحکام چاہتا ہے۔‘

من سیون کو نے کہا کہ چین نے ’ہمیشہ استحکام کو ترجیح دی ہے اور اس وقت وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور اختلافات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ہارورڈ یونیورسٹی ایشیا سینٹر کے وزٹنگ سکالر سیونگ ہیون لی نے بھی کہا کہ بیجنگ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے اس کی حکومت کے استحکام کی ضمانت دینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چین کی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کو ایک مستحکم، بھاری ہتھیاروں سے لیس اور اتحادی بفر ریاست سے فائدہ ہوتا ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی توجہ کو مبذول کرائے رکھتی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *